قلات ( نامہ نگار ) پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان کے ضلع قلات میں 2 ستمبر کو کیے گئے ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 12 عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کے دوران ایک مبینہ ٹھکانے کی نشاندہی کے بعد اسے نشانہ بنایا گیا، جبکہ وہاں موجود اسلحہ اور دیسی ساختہ بارودی مواد بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
تاہم، ایسے فوجی دعووں کے حوالے سے ماضی میں بھی سوالات سامنے آتے رہے ہیں۔ بعض واقعات میں فوج کی جانب سے ہلاک کیے گئے افراد کو عسکریت پسند قرار دیا گیا، جبکہ بعد ازاں مقامی ذرائع، خاندانوں یا دیگر شواہد کی بنیاد پر بعض افراد کی شناخت عام شہریوں یا پہلے سے لاپتا کیے گئے بلوچ افراد کے طور پر سامنے آنے کے دعوے بھی کیے گئے۔
بلوچستان میں انسانی حقوق سے متعلق حلقے ماضی میں یہ مؤقف بھی اختیار کرتے رہے ہیں کہ بعض فوجی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت اور واقعے کی آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ماضی میں بلوچستان میں بڑے عسکری حملوں کے بعد فوج کی جانب سے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں اور متعدد افراد کو ہلاک کرنے کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم قلات کے حالیہ واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کی آزادانہ طور پر شناخت اور فوجی دعوے کی فوری طور پر آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
