تربت زیرِ حراست نوجوان کی ہلاکت، فورسز کی لاش دینے سے انکار

 


تربت (  نامہ نگار) ضلع کیچ کے علاقے الندور کے رہائشی چنگیز ولد محمد ابراہیم کے بارے میں اہلِ خانہ کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستانی فورسز کی حراست کے دوران جاں بحق ہوئے، جبکہ فورسز نے ان کی لاش حوالے کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اہلِ خانہ کے مطابق، 24 سالہ چنگیز ولد محمد ابراہیم کو 4 ستمبر 2026 کو رات 11 بجے آپسَر، تربت، ضلع کیچ سے پاکستانی فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا تھا۔

خاندانی ذرائع کا مزید دعویٰ ہے کہ چنگیز کو اس سے قبل بھی پاکستانی خفیہ اداروں کی جانب سے بلوچ سیاسی کارکنوں کے خلاف مخبری کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا تھا۔

خاندان کے مطابق، چنگیز بلوچ کی بازیابی کے لیے انہوں نے مختلف اداروں اور افراد سے رابطہ کیا، تاہم بعد ازاں انہیں پاکستانی فورسز کی جانب سے اطلاع دی گئی کہ چنگیز دورانِ حراست انتقال کر گئے اور فورسز نے انہیں دفن کر دیا ہے۔ اہلِ خانہ کے مطابق، فورسز نے انہیں چنگیز کی لاش کی تصویر بھی دکھائی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستانی فورسز کی زیرِ حراست بلوچ افراد کی ہلاکت اور ان کی لاشیں لواحقین کے حوالے نہ کرنے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ 27 اگست 2025 کو پولیس کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) نے کوئٹہ سے عمران علی نامی ایک نوجوان کو جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔ تقریباً ایک سال تک ان کا خاندان ان کے ٹھکانے یا انجام کے بارے میں کسی بھی معلومات سے محروم رہا۔

6 اگست 2026 کو جبری طور پر لاپتہ افراد کے بارے میں قائم تحقیقاتی کمیشن کے سامنے عمران علی کے کیس کی سماعت کے دوران، ایک پولیس افسر نے پہلی مرتبہ یہ دعویٰ کیا کہ عمران علی 23 مئی 2026 کو ایک مسلح مقابلے کے دوران مارے گئے تھے اور انہیں دفن کر دیا گیا تھا۔

لواحقین نے اس موقف کو مسترد کر دیا، کیونکہ ان کے مطابق عمران علی ہلاکت کے دعوے سے قبل تقریباً 11 ماہ تک پولیس کی حراست میں تھے۔ حراست سے رہا ہونے والے دیگر تین افراد نے بھی ان کے پولیس کی تحویل میں ہونے کی تصدیق کی تھی۔

اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے عمران علی کی ہلاکت کے تمام پہلوؤں کی فوری، آزاد اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق، عمران علی کی حراست، ان کی موت کے حالات اور خفیہ تدفین سمیت پورے معاملے کا مکمل اور شفاف جائزہ لیا جانا چاہیے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post