شہید نواب غوث بخش رئیسانی ہسپتال بدترین انتظامی بحران کا شکار، تین اہم اسپیشلسٹ ڈاکٹروں نے استعفے جمع کرادئیے مزید تین ڈاکٹرز کے بھی ہسپتال چھوڑنے کا خدشہ

 


مستونگ ( نامہ نگار )

شہید نواب غوث بخش رئیسانی ہسپتال مستونگ اس وقت بدترین انتظامی بحران سے دوچار ہے۔ ہسپتال میں مستقل چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) کی عدم تعیناتی اور مبینہ انتظامی بدانتظامی کے باعث ہسپتال کے طبی امور شدید متاثر ہونے لگے ہیں۔ذرائع کے مطابق ہسپتال کے تین اہم اسپیشلسٹ ڈاکٹروں نے اپنے استعفے جمع کرا دیے ہیں، جن میں چائلڈ اسپیشلسٹ، آئی اسپیشلسٹ اور ای این ٹی اسپیشلسٹ شامل ہیں۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ہسپتال کی موجودہ انتظامی صورتحال سے دلبرداشتہ مزید تین اہم اسپیشلسٹ ڈاکٹرز بھی ہسپتال چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔
اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کے استعفوں اور مزید ڈاکٹرز کے ممکنہ طور پر ہسپتال سے علیحدہ ہونے کی صورتحال نے مستونگ سمیت گردونواح کے ہزاروں مریضوں اور ان کے لواحقین میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ اگر صورتحال پر فوری قابو نہ پایا گیا تو علاقے کو طبی سہولیات فراہم کرنے والا یہ اہم ہسپتال تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے اور عوام کو علاج معالجے کی بنیادی و اہم سہولیات کے حصول میں سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عوامی و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان، صوبائی وزیر صحت، سیکرٹری صحت اور رکن صوبائی اسمبلی مستونگ سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ہسپتال کے انتظامی بحران کا جائزہ لیا جائے، مستقل CEO کی تعیناتی سمیت تمام انتظامی مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے اور مستونگ کے عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔عوامی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہسپتال سے مزید اسپیشلسٹ ڈاکٹرز چلے گئے تو اس کے براہِ راست اثرات مستونگ اور گردونواح کے عوام پر پڑیں گے، لہٰذا حکومت مزید تاخیر کے بجائے فوری اور عملی اقدامات اٹھائے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post