خضدار بچوں کی نعشیں سڑک پر رکھ کر لواحقین کا احتجاج، حکومتی بیانیے پر سنگین سوالات

 


خضدار ( نامہ نگار ) ضلع خضدار  وڈھ سارونہ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ایک ہی خاندان کے بچوں سمیت 4 افراد کی  ہلاکتوں کے دعوے کے بعد متاثرہ خاندانوں نے کراچی ،کوئٹہ شاہراہ پر لاشیں رکھ کر احتجاج کرتے ہوئے سڑک بند کردی۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے جن افراد کو "دہشت گرد" قرار دے کر ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، ان میں بچے بھی شامل ہیں۔ احتجاج کے دوران لواحقین نے بچوں کی لاشیں سامنے رکھ کر سوال اٹھایا کہ

"کیا یہ بچے بھی دہشت گرد تھے؟"

متاثرہ خاندانوں نے پاکستانی فوج اور صوبائی حکومت کے مؤقف پر شدید سوالات اٹھاتے ہوئے واقعے کی شفاف، غیرجانبدار اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ اگر ریاست کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام افراد دہشت گرد تھے تو پھر بچوں کی موجودگی اور ان کی ہلاکت کی وضاحت کون کرے گا؟

واقعے نے وزیراعلیٰ بلوچستان کی حکومت اور سکیورٹی اداروں کی کارروائیوں پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت محض سرکاری مؤقف دہرانے کے بجائے متاثرہ خاندانوں کے سوالات کا جواب دے اور واقعے کی آزادانہ تحقیقات کرائے۔

لاشوں کے ساتھ شاہراہ پر احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ متاثرہ خاندان سرکاری وضاحت سے مطمئن نہیں۔

واضح رہے کہ ہلاکتوں اور متاثرین کی شناخت سے متعلق مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں، اس لیے مکمل حقائق کے تعین کے لیے آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post