سوراب بازار ٹو ڈن کراس روڈ کے تعمیراتی کام ادھورے چھوڑنے کے خلاف احتجاج، کلی سرخ کے مکینوں نے روڈ بازار کے مقام سے بند کردی، خضدار میں بھی شاہراہ بند کردیا گیا

 


سوراب / خضدار ( نامہ نگار) سوراب بازار ٹو ڈن کراس روڈ کے تعمیراتی کام ادھورے چھوڑنے کے خلاف کلی سرخ کے مکینوں نے احتجاج کرتے ہوئے روڈ کو سوراب بازار کے مقام پر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا جس کے باعث دونوں اطراف گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ سوراب ٹو ڈن کراس روڈ علاقے کے لیے انتہائی اہم روڈ ہے تاہم تعمیراتی کام شروع کرنے کے بعد اسے ادھورا چھوڑ دیا گیا ہے جس کے باعث مقامی آبادی کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔مکینوں کے مطابق سڑک کی تعمیر مکمل نہ ہونے سے شاہراہ پر گردوغبار، گڑھوں اور خستہ حال راستوں کے باعث حادثات کا خطرہ بڑھ گیا ہے جبکہ طلبہ، مریضوں، خواتین اور دیگر مسافروں کو بھی مشکلات پیش آرہی ہیں۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ حکام فوری طور پر سوراب ٹو ڈن کراس روڈ کے تعمیراتی کام دوبارہ شروع کرکے اسے جلد مکمل کریں اور عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جائے۔
دریں اثناء وائس چیئرمین میونسپل کمیٹی سوراب شیخ محمد یاسین سمالانی نے مظاہرین سے مذاکرات کیے مذاکرات اور یقین دہانی کے بعد مظاہرین نے احتجاج ختم کرتے ہوئے سوراب ٹو ڈن کراس روڈ کو ٹریفک کے لیے بحال کردیا، جس کے بعد روڈ پر ٹریفک کی روانی معمول پر آگئی۔
مظاہرین نے واضح کیا کہ سڑک کی تعمیر کا کام جلد مکمل نہ کیا گیا تو وہ دوبارہ احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔



دوسری جانب خضدار زمینداروں کا احتجاج ختم، روڈ ٹریفک کے لیے بحال
خضدار میں زمینداروں کی جانب سے کھاد کی عدم دستیابی اور قیمتوں کے خلاف روڈ پر جاری دھرنا انتظامیہ اور زمینداروں کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد ختم ہوگیا۔
انتظامیہ نے زمینداروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اسٹاک میں موجود کھاد مناسب اور مقررہ ریٹ پر دستیاب بنانے کو یقینی بنایا جائے گا انتظامیہ کے مطابق آئندہ 3 دن کے اندر کھاد کی دستیابی میں بہتری لائی جائے گی، جبکہ مستقبل میں بھی زمینداروں کو بہتر انداز میں کھاد کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے دھرنا ختم ہونے کے بعد روڈ کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post