کوئٹہ ( نامہ نگار ) مستونگ کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کے دو مختلف مقامات سے 6 نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جنہیں پولیس نے ضروری قانونی کارروائی اور شناخت کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
مستونگ کے ایک سینئر انتظامی افسر نے 6 لاشیں ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تمام افراد کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق مستونگ شہر کے قریب قومی شاہراہ پر ڈی سی ہاؤس کے قریب سے ایک جبکہ دتو موڑ کے مقام سے مزید پانچ افراد کی لاشیں ملیں ہیں۔ دتو موڑ سے ملنے والی پانچوں لاشیں کئی گھنٹوں تک قومی شاہراہ کے کنارے پڑی رہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق لاشیں کئی روز پرانی معلوم ہوتی ہیں۔ تمام افراد کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا، تاہم مقتولین کی شناخت اور انہیں قتل کیے جانے کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہوسکے ہیں۔
پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مقتولین کو کہاں قتل کیا گیا اور ان کی لاشیں قومی شاہراہ کے کنارے کس نے پھینکیں۔
علاوہ ازیں
کوئٹہ، پولیس اسٹیشن پر دستی بموں سے حملہ، پولیس اہلکار اور راہگیر زخمی ہوگیا ۔
دوسری جانب
جھل مگسی تحصیل گنداواہ ،مسلح افراد کا کوٹڑہ بازار ریسٹ ہائوس پر حملہ ۔بم دھماکہ سے ریسٹ ہاؤس تباہ ہوگیا ۔
دریں اثناء
تربت کے علاقے کرکینی میں مچھلی مارکیٹ کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو قتل کردیا تھا۔ مقتول کی نعش ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کردی گئی ہے، تاہم آخری اطلاعات تک مقتول کی شناخت نہیں ہوسکی تھی۔
ادھر چاغی
تحصیل چاغی بازار میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے قبائلی رہنما ملک کریم داد محمد حسنی جانبحق ہوگئے۔
علاوہ ازیں ناصرآباد کے پرانے مند روڈ پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے عبدالحق ولد عبدالغفور، سکنہ تاپلو زامران حال نودز نامی شخص کو زخمی کردیا۔
پولیس نے واقعات سے متعلق تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ فائرنگ کے واقعات کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہوسکیں۔

