20 ستمبر 2026 آل پارٹیز کیچ کا احتجاجی مظاہرہ ۔کامریڈ وسیم سفر



اب یہ معاملہ صرف آل پارٹیز کیچ تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ بنیادی حق، یعنی آزادیِ اظہارِ رائے، مظلوم و محکوم عوام سے چھیننے کا معاملہ بن چکا ہے۔ آج ہم سب کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ اگر آل پارٹیز کیچ کو احتجاج ریکارڈ کرانے کی اجازت نہیں دی جاتی تو کل کسی بھی سیاسی جماعت، سماجی تحریک یا تنظیم کو اپنے احتجاج اور عوامی مطالبات پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مقتدرہ قوتیں عوامی حقوق غصب کرکے، خوف و ڈر کی فضا قائم کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہیں کہ یہاں سب کچھ باقاعدہ اور پُرامن طریقے سے چل رہا ہے، لیکن اگر لوگ اپنے مسائل کے لیے سڑکوں پر نکلیں گے تو ان سے بازپرس ضرور ہوگی۔ اسی سوچ کے تحت ہر سطح پر قدغنیں عائد کی جا رہی ہیں۔ معاشی اور سیاسی ناکہ بندی، آزادیِ اظہار پر پابندیاں اور عوامی آواز کو دبانے کی پالیسی کسی صورت نیک شگون نہیں۔

عوام کے لیے ہر سیاسی عمل کی ناکامی دراصل مظلوم و محکوم لوگوں کی ناکامی ہے، جبکہ ہر کامیابی ہم سب کی کامیابی ہے۔ ہمیں اس وقت اپنی انا پرستی، بغض اور عناد پر قائم رہنے کے بجائے حقیقت کو سمجھنے اور حالات کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے۔

آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ضلع کیچ کے بارڈر کراسنگ پوائنٹس کو بند ہوئے ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ لوگ نانِ شبینہ کے محتاج ہو چکے ہیں۔ دن دیہاڑے قتل و غارت گری، تربت کی مصروف ترین مارکیٹوں میں چوریاں اور گھروں میں گھس کر ڈکیتیاں—یہ سب اسی معاشی قدغن کے پیدا کردہ حالات کا حصہ ہیں۔ جب لوگوں سے روزگار کے ذرائع چھین لیے جائیں، معاشی سرگرمیاں محدود کر دی جائیں اور لوگوں کو اپنے بنیادی معاشی حقوق سے محروم کیا جائے تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔

مقتدرہ قوتوں کو احتجاج اور مظاہروں سے اس قدر الرجی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے پُرامن، سیاسی اور جمہوری انداز میں جدوجہد کرنا چاہتا ہے تو اسے بھی نہیں چھوڑا جا رہا۔ آج جو لوگ اظہارِ لاتعلقی کی قطار میں کھڑے نظر آ رہے ہیں، یہ بھی اسی خوف اور دباؤ کے اثرات ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ عوامی مسائل سے چشم پوشی اختیار کرکے خود کو سائیڈ لائن کر چکے ہیں۔ انہوں نے نہ کبھی عوامی ایشوز پر مؤثر آواز اٹھائی اور نہ آئندہ اٹھائیں گے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس طرزِ عمل سے نقصان انہوں نے خود اپنا کیا ہے۔

جب یہ لوگ عوام سے دور ہوں گے تو عوام بھی ان سے سوال کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔ کل جب ہم مشکل وقت میں پھنسے ہوئے تھے، آپ لوگوں نے بہانے بنا کر خوف، ڈر اور مستقبل میں اقتدار کی خواہش کی خاطر خود کو سائیڈ لائن کیا اور پھر مخالفت پر اتر آئے۔ آنے والا وقت عوام کو یہ سوال پوچھنے کا حق ضرور دے گا کہ مشکل وقت میں آپ کہاں کھڑے تھے۔

آج ایک تاریخ رقم ہو رہی ہے۔ ہمیں آل پارٹیز کیچ سے نہ کوئی ذاتی قرابت ہے اور نہ کوئی ذاتی مفاد، لیکن عوامی حقوق اور بلوچ عوام کی معاشی و سیاسی آزادی پر عائد قدغنوں کے خلاف یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔ اگر استحصالی قوتیں اس بنیادی حق کو بھی چھیننے کی کوشش کر رہی ہیں تو ہم سب کو مل کر یہ کوشش کرنی چاہیے کہ عوام کے سیاسی اور معاشی حقوق کو استحصالی قوتیں اتنی آسانی سے غصب نہ کر سکیں، کیونکہ یہ صورتِ حال ایک بہت بڑے بحران کی پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

ایک طرف بلوچستان اور بلوچ قوم کو ایک خودساختہ بحران میں مبتلا کر دیا گیا ہے، دوسری جانب ایک مصنوعی مثبت چہرہ دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حال ہی میں چند یوٹیوبرز کا تربت شہر کا دورہ اس کی واضح مثال ہے۔ انہیں وہی مقامات دکھائے گئے جہاں عام تربتی عوام کی حقیقی زندگی، مشکلات اور مسائل دکھائی نہیں دیے گئے۔ نہ تربت کی عام عوام کو اس انداز میں دکھایا گیا اور نہ ہی پروفیشنل و اعلیٰ شخصیات کے حقیقی مسائل اور حالات سامنے لائے گئے۔ یہ سب ایک مصنوعی بیانیے کو تقویت دینے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔

ہم اپنے بنیادی حقوق چھوڑ کر خوف، رعب اور دبدبے کی وجہ سے خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ بھوک اور افلاس بھی انسان کو اندر سے ختم کر دیتے ہیں۔ اس سے بہتر ہے کہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھائی جائے۔ آخر مرنا تو سب نے ہے؛ گھر میں بیٹھے رہیں گے تو بھوک اور افلاس مارے گا، باہر نکلیں گے تو مقتدرہ قوتوں کا دباؤ اور جبر سامنے ہوگا۔ لیکن کیا یہ بہتر نہیں کہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتے ہوئے جدوجہد کی جائے، بجائے اس کے کہ خاموش بیٹھ کر بھوک اور افلاس کا شکار ہوتے رہیں؟

آل پارٹیز کیچ سے ہمارے سیاسی اور نظریاتی اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں، مگر یہ وقت آپس کے اختلافات کو ترجیح دینے کا نہیں۔ پہلے ہمیں اپنے بنیادی سیاسی اور معاشی حقوق، اپنی آزادی اور عوامی حقِ اظہار کے لیے کھڑا ہونا ہوگا۔ ورنہ یہ خودساختہ طور پر پیدا کیا گیا بحران ایک ایسے طوفان کی شکل اختیار کر سکتا ہے جو ہم سب کو بہا کر لے جائے گا۔

اگر ہم نے بروقت ہوش کے ناخن نہ لیے تو آج جو کچھ ہو رہا ہے، وہ فخر محسوس کرنے کا نہیں بلکہ آنے والے وقت میں ندامت اور شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر یہ رواج برقرار رہا تو ہمیں مقتدرہ قوتوں کی روک ٹوک کی بھی ضرورت نہیں رہے گی؛ ہم خود ایک دوسرے کو قابو کرنے اور ایک دوسرے کی آواز دبانے کی کوشش کریں گے۔

پھر وہ حق جو ہمارا ہے، ہم سے اتنی آسانی سے چھین لیا جائے گا کہ ہم غلاموں کے غلاموں سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

آج لوگوں کی معاشی حالت اس نہج تک پہنچ چکی ہے کہ انہیں دیگر آسائشوں، حتیٰ کہ مستقبل کی بھی کوئی فکر لاحق نہیں؛ ان کی تمام تر فکر صرف دو وقت کی روٹی اور روزی کمانے تک محدود ہو گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ہمارے لیے نیک فعل ہے؟ کیا غربت اور پسماندگی کا شکار لوگ اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکتے ہیں؟ کیا بیماری کی صورت میں ان کا علاج ممکن ہے؟ ہرگز نہیں۔

اگر عوام سے روزگار، معاشی آزادی، سیاسی آزادی اور اظہارِ رائے کا حق مسلسل چھینا جاتا رہا تو ہم زندہ ہوتے ہوئے بھی ایک ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے جہاں انسان بی موت مرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post