تربت کے علاقے ناصر آباد منشیات کی لپیٹ میں، شہری عدم تحفظ کا شکار، متعلقہ اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ



تربت ( نامہ نگار) ناصرآباد شہر میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال اور کھلے عام فروخت نے شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ منشیات فروشوں نے جامع مسجد ناصرآباد کے ساتھ ٹھکانے بنا رکھا ہے مدرسہ میں طلبہ و طالبات کا مدرسہ جانا بھی مشکل ہوگئی ہے مقامی شہریوں کے مطابق میں منشیات کی خرید و فروخت مبینہ طور پر سرعام جاری ہے، جس کے باعث نوجوان نسل اور علاقے کا امن شدید متاثر ہو رہا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اب منشیات کے اڈے مبینہ طور پر "ساقی خانوں" کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جہاں نشے کے عادی افراد کی بڑی تعداد موجود رہتی ہے۔ ان کے بقول شہر میں ہونے والی متعدد چوری، ڈکیتی، گھروں کے چھتوں سے سولر پینل کی چوریوں سمیت دیگر جرائم میں بھی مبینہ طور پر منشیات کے عادی افراد ملوث پائے جاتے ہیں، جس سے عام شہریوں میں خوف و ہراس بڑھ رہا ہے۔

مقامی افراد کے مطابق اب صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ رات کی تاریکی میں گھروں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں بھی چوری کی جا رہی ہیں، جبکہ دن کے اوقات میں گلیوں، محلوں اور گزرگاہوں میں منشیات کا کھلے عام لین دین دیکھنے میں آتا ہے، جو متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔

شہریوں نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ جامع مسجد ناصر آباد کے قریب واقع ایک منشیات کے اڈہ اور مبینہ طور پر معروف منشیات کا اڈہ پولیس اسٹیشن کے نزدیک ہونے کے باوجود یہاں منشیات فروش دیدہ دلیری سے منشیات فروخت کررہے ہیں، جس پر عوام شدید حیرت اور تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ منشیات کے خلاف صرف آگاہی مہم یا وال چاکنگ کافی نہیں، بلکہ عملی اور مؤثر کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل کو اس ناسور سے بچایا جا سکے اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔

ناصرآباد کے معززین نے ضلعی پولیس سربراہ ایس ایس پی کیچ، کیپٹن (ر) زوہیب محسن اور متعلقہ انسدادِ منشیات اداروں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ منشیات فروشوں اور ان کے مبینہ اڈوں کے خلاف بلاامتیاز اور مؤثر کارروائی عمل میں لائیں تاکہ ناصرآباد کو اس سنگین مسئلے سے نجات دلائی جا سکے اور شہری سکھ کا سانس لے سکیں۔



Post a Comment

Previous Post Next Post