خضدار انجیرہ میں فورسز کا چھاپہ، متعدد افراد گرفتار، اسلحہ اور گاڑیاں برآمد کرنے کا دعوی

 


خضدار( نامہ نگار) خضدار انجیرہ کے علاقے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار کرنے اور اسلحہ و گاڑیاں برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کارروائی کو اسماء جتک کیس سے متعلق تحقیقات کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا، جبکہ اسلحہ اور بعض گاڑیاں بھی قبضے میں لی گئیں۔ تاہم حکام کی جانب سے گرفتار افراد کی تعداد اور برآمد ہونے والے اسلحے کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئی ہیں۔

اسماء جتک کیس کا پس منظر

اسماء جتک کا معاملہ گزشتہ کئی عرصے سے خضدار میں شدید عوامی اور سیاسی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق اسماء جتک کو فروری 2025 میں خضدار سے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کی بازیابی کے لیے احتجاج اور مظاہرے کیے گئے۔ بعد ازاں وہ بازیاب ہوئیں، تاہم خاندان کے مطابق انہیں مسلسل دھمکیوں کا سامنا رہا۔

رواں ماہ اسماء جتک نے ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے اپنی اور اپنے خاندان کی سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات کا اظہار کیا اور دعویٰ کیا کہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو خطرات لاحق ہیں۔ ان کے بیان کے چند ہی گھنٹوں بعد ان کے والد، ریٹائرڈ استاد ماسٹر عنایت اللہ جتک کو خضدار کے شہزاد سٹی کے علاقے میں فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کیں۔

پولیس کے مطابق عنایت اللہ جتک کے قتل کے مقدمے میں چار افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ ایف آئی آر میں قتل، دھمکیوں، مہلک ہتھیاروں کے استعمال اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔

اسماء جتک کے خاندان کی جانب سے ماضی میں بھی دھمکیوں اور خاندان کے دیگر افراد کو پیش آنے والے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ حکومت بلوچستان نے بھی اسماء جتک کو مبینہ دھمکیوں اور ان کے اہل خانہ کے قتل کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی قائم کی ہے۔

انجیرہ میں تازہ کارروائی کو اسی معاملے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، تاہم گرفتار افراد کا اسماء جتک کیس سے تعلق اور برآمد شدہ اسلحے کی نوعیت کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔

Post a Comment

Previous Post Next Post