خضدار ( نامہ نگار ) خضدار کے علاقے زہری تراسانی کا واحد گرلز پرائمری سرکاری اسکول گزشتہ ایک سال سے عملی طور پر بند ہونے کے باعث علاقے کی درجنوں بچیاں بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔
علاقہ مکینوں کے مطابق اسکول کی عمارت موجود ہے، جبکہ بچیاں روزانہ صبح سویرے کتابیں اور بستے لے کر اسکول پہنچتی ہیں، تاہم انہیں پڑھانے کے لیے کوئی استانی موجود نہیں ہوتی، جس کے باعث تدریسی عمل مکمل طور پر معطل ہے۔
والدین کا کہنا ہے کہ بچیوں کو تعلیم کے لیے دور دراز علاقوں میں بھیجنا ممکن نہیں، جس کے باعث ان کی تعلیم کا سلسلہ گھروں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا کہ اسکول میں تعینات سرکاری اساتذہ طویل عرصے سے غیر حاضر ہیں، تاہم محکمہ تعلیم کی جانب سے مبینہ غیر حاضری کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔
علاقہ مکینوں اور بچیوں کے والدین نے شکایت کی ہے کہ ایک طرف حکومت تعلیمی ایمرجنسی کے دعوے کررہی ہے، جبکہ دوسری جانب تراسانی، زہری کی بچیاں بنیادی تعلیم سے محروم ہیں، جو تعلیمی نظام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
علاقہ مکینوں نے صوبائی وزیر تعلیم، سیکریٹری تعلیم بلوچستان اور ضلعی تعلیمی حکام خضدار سے مطالبہ کیا ہے کہ تراسانی گرلز پرائمری اسکول کی بندش کا فوری نوٹس لے کر غیر حاضر اساتذہ کو ڈیوٹی پر حاضر کیا جائے اور تدریسی عمل بحال کیا جائے۔
مکینوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو علاقے کی ایک پوری نسل تعلیم کی روشنی سے محروم ہو سکتی ہے۔
