پنجابی جنرل، فوج اور دیگر دم چلوں کے ساتھ سحرائے گوبی شفٹ ہوجائیں باغ سبزہ کے لائق نہیں ۔تحریر ،سمیر جیئند بلوچ

 


حقوق پر ڈاکہ ڈالنے انتظامی ناکامی پر  شرمندہ ہونے کے بجایے  جنرل مزید لوگوں سے منہ کو نوالہ چھیننا اپنا حق سمجھتے ہیں ،یہی وجہ ہے کھٹ پتلی وزیر اعلی کے کندھے پر بندوق رکھ کر مسلسل عوام سے ان کے منہ کا نوالہ چھین کر   گولی چلائی جارہی ہے ۔آپ نے بھی دیکھا اور پڑھا کہ پچھلے ہفتے خضدار سے چند سیاستدانوں سمیت لینڈ مافیا ،ڈرگ مافیا ،حتی کہ چند موالیوں ،ڈیتھ اسکوائڈ کارندوں کو بلاکر اسلام آباد وزیر اعظم کانفرنس میں جنرل آصف منیر باجوہ نے دھمکی دی کہ وہ بلوچستان خصوصا مستونگ اور نوشکی میں فوجی آپریشن کرکے قتل عام کریں گے ۔
آج وزیر اعلی اسی ایجنڈے کو آگے بڑھاکر عوام کو دھمکی دے رہے ہیں کہ وہ مستونگ میں باغات کو اکھاڑ کر علاوقو بنجر بنادیں گے کیوں کہ وہ بلوچ آزادی پسندوں کو اپنے باغوں سے فوج پر حملہ کرنے کی  نہ صرف اجازت بلکہ انکے خلاف ہتھیار نہیں اٹھاتے ، مطلب وہ بھی اسی طرح ڈیتھ اسکوائڈ کا حصہ بنیں جس طرح بدنام زمانہ ضمیر فروش شفیق مینگل اور سرفراز بگٹی ( بھٹی) سمیت چند دیگر بنے ہوئے ہیں ۔

وزیر اعلی اور اسکے آقاء فوج کو معلوم ہونا چاہئے کہ اگر پوری عوام بندوق اٹھاتی تو وہ 79 سال سے بلوچستان پر قبضہ خلاف اٹھا لیتے ،کسی بھی سماج میں ایسا نہیں دیکھا گیا ہے کہ وہ سب ایک ہی کام پر لگے رہیں ،کوئی بندوق تو کوئی قلم ،کوئی سیاست تو کوئی سماجی ورکر یا دکاندار ،استاد ،وکیل ،ڈاکٹر ،کسان طالب علم ،وغیر ہیں ،ٹھیک اسی طرح کچھ لوگوں کا خیال ہے وہ آزادی بندوق زریعے حاصل کریں گے ،تو ایک مخصوص طبقہ کے لوگوں نے بندوق اٹھائی ہے ۔
وہ بھی عوام کو مجبور نہیں کرسکتے کہ وہ تمام بندوق اٹھائیں یا سیاستدان عوام کو مجبور نہیں کرسکتا کہ وہ اسی پلیٹ فارم پر سیاست کریں ۔
سماج میں ہر کوئی کسی نہ کسی شعبہ سے وابسطہ ہے ،
سماجی ضرورت بھی یہی ہے کہ ہر کوئی کسی نہ کسی شعبہ میں کام کرکے سماجی ضروریات پوراکریں وہی ترقی پسند اور ترقی پزیر ممالک میں ہو رہاہے وہی سب کیلے قانون و ضابطہ طے ہے ۔

اگر فوج فوجی کشی کرنا چاہتی ہے تو وہ پہلے بھی عوام سے اجازت نہیں لی ہے نہ آئندہ لیگی کیوں کہ وہ انسانی اقدار انسانی کی بنیادی حقوق سے بے خبر ہے ،وہ ہر جگہ چاہتی ہے کہ عوان اس سے خوف زدہ رہے ۔
اسلئے وہ لوگوں کا قتل عام بھتہ خوری سرعام کرتی ہے ،اس کے خیال میں ہر چیز کا علاج قتل عام ہے ۔
کبھی وہ جبری لاپتہ افراد کو قتل کرتی ہےتو کبھی نہتے شہریوں کی معاشی اقتصادی قتل جاری رکھی ہوئی ہے ۔

عوام کے منہ کا نوالہ چاہئے فوج لیے یا آزادی پسند ،ڈکیت مافیا ،ضمیر فروش عوام انھیں معاف نہیں کرتی کیوں کہ وہ سمجھتی ہے کہ یہ انکے اور بچوں کے قاتل ہیں خیر خواہ نہیں ۔
آپ لاکھ باغات ،گھروں کو مسمار بلڈوز کریں باڈر بند کرکے منہ کا نوالہ چھین لیں انھیں زیر نہیں کرسکتے کیوں کہ فرعونیت کہیں بھی زیادہ دیر پا ئیدار نہیں رہتی وہ مٹ جاتا ہے۔
تم بھی یہ بات جانتے ہو کہ کوئی مسلح شخص باغ ہو یا پہاڑ جنگل ،گنجان شہر ،قصبہ وہاں زیادہ دیر قیام نہیں کرتے وہ ہروقت حرکت میں رہتے ہیں ،اسطرح یہ بھی جانتے ہیں کہ فوج کسی باغ سامنے نہیں لیٹ جاتی کہ اسے کوئی آکے مارے ، اس کے باوجود ایسی حرکت کرنےکا مطلب احمق پن کے سوائے کچھ نہیں ہے ، باغات کی کٹائی ،گھروں کی مسماری ،باڈر بندش اور لوگوں کےاملاک کو نقصان پہنچانے سے مزید مسائل کا سامان کرنا پڑے گا ،چوریاں قتل غارت ،اور بڑھے گی جس کا سامان خود ہی فوج اسکے دلال  کریں گے ۔
جس طرح فواد چوہدری نے کہاکہ ہم مریں گے یا ماریں گے ،اگر مرنے کا اتنا شوق ہے تو سحرائے گوبی منتقل ہوجائیں  خشکی میں ریت میں مریں،مرنے کیلے10 لاکھ فوج سمیت اپنے علاقائی دلالوں ،ڈیتھ اسکوائڈ لینڈ مافیا ،بھتہ خوروں ،منشیات فروشوں سمیت ان موالی لفنگوں کو بھی لے چلیں جو وزہر اعظم کانفرنس میں دم ہلا ہلا کر خوش آمدی چاپلوسی کر رہے تھے ۔

Post a Comment

Previous Post Next Post