قلعہ عبداللہ ( نامہ نگار )
تھانہ یارو میں ایس ایچ او نصیب اللہ پر رشوت اور جھوٹے مقدمے کا الزام: مظاہرین کا یارو بازار میں احتجاج، روڈ ٹریفک کے لیے بلاک
مظاہرین کے مطابق یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ گزشتہ رات تھانہ یارو پولیس اور ایس ایچ او نصیب اللہ نے ایک 18 سالہ نوجوان کو اس کی اوریجنل گاڑی سمیت روکا۔ مظاہرین کے بقول پہلے پولیس ایس ایچ او کی جانب سے 5 لاکھ روپے (رشوت) کا مطالبہ کیا گیا، اور جب پیسے نہیں دیے گئے تو پولیس نے نوجوان کے خلاف گاڑی میں دو کلو چرس رکھ کر جھوٹی ایف آئی آر درج کر دی۔
اس مبینہ ناانصافی اور کارروائی کے خلاف نوجوان کے والدین اور علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے یارو بازار کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک بے گناہ نوجوان اور اس کی گاڑی کو باعزت طریقے سے رہا نہیں کیا جاتا، تب تک روڈ کو ٹریفک کے لیے نہیں کھولا جائے گا۔
تھانہ یارو میں ایس ایچ او نصیب اللہ پر رشوت اور جھوٹے مقدمے کا الزام: مظاہرین کا یارو بازار میں احتجاج، روڈ ٹریفک کے لیے بلاک
قلعہ عبداللہ: مظاہرین کے مطابق یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ گزشتہ رات تھانہ یارو پولیس اور ایس ایچ او نصیب اللہ نے ایک 18 سالہ نوجوان کو اس کی اوریجنل گاڑی سمیت روکا۔ مظاہرین کے بقول پہلے پولیس ایس ایچ او کی جانب سے 5 لاکھ روپے (رشوت) کا مطالبہ کیا گیا، اور جب پیسے نہیں دیے گئے تو پولیس نے نوجوان کے خلاف گاڑی میں دو کلو چرس رکھ کر جھوٹی ایف آئی آر درج کر دی۔
اس مبینہ ناانصافی اور کارروائی کے خلاف نوجوان کے والدین اور علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے یارو بازار کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک بے گناہ نوجوان اور اس کی گاڑی کو باعزت طریقے سے رہا نہیں کیا جاتا، تب تک روڈ کو ٹریفک کے لیے نہیں کھولا جائے گا۔
