کوئٹہ ( نامہ نگار) بلوچستان کے علاقے شاہرگ میں فوجی آپریشن کے دوران گھر گھر تلاشی، گرفتاریوں اور تشدد کے واقعات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران متعدد گھروں میں داخل ہو کر تلاشی لی گئی، جبکہ کئی افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں آٹھ افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ لاپتہ افراد میں حاجی بابو در خان، طور خان، حاجی مڑز علی، احمدان، صابر سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق تلاشی کے دوران دو خواتین سازین اور چما سمیت دیگر افراد کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ چما کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہیں بندوق کے بٹ مارنے سے پاؤں پر شدید چوٹیں آئیں، جبکہ فائرنگ کے دوران چہرے پر گولیوں کے ذرات لگنے سے ان کا چہرہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران شیر زمان اور عزیز الرحمان بھی فائرنگ کے نتیجے میں شدید زخمی ہوئے ہیں۔ شیر زمان مزدوری کرکے اپنے خاندان کا گزر بسر کرتا تھا۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ حاجی بابو در خان اور حاجی مڑز علی عمر رسیدہ افراد ہیں، جبکہ طور خان ایک آنکھ سے معذور شخص ہیں۔
اہلِ خانہ اور مقامی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں اور زخمیوں کو فوری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ حکام نے تاحال اس حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہے۔
دوسری جانب پاکستانی فورسز کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا ہے بلوچستان کے ضلع نوشکی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا جہاں 7 عسکریت پسند ہلاک ہوگئے اور خودکش بمبار بھی مارا گیا۔
بیان کے مطابق فورسز نے 30 اور 31 جولائی کی درمیانی شب بلوچستان کے ضلع نوشکی میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا اور 7 عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا۔
آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ مارے گئے مسلح افراد میں ایک خودکش بمبار بھی شامل تھا۔
یاد رہے کہ بلوچستان کے ضلع نوشکی میں پاکستانی فورسز کی جانب سے گذشتہ کئی روز سے کرفیو نافذ ہے، جبکہ دفعہ 144 قائم کرتے ہوئے ڈبل سواری و شہری اجتماعات پر پابندی عائد کردی ہے۔پ
تاہم آزاد زرائع سے پاکستانی فورسز کی دعویٰ کی تصدیق تاحال نہیں ہوسکی ہے۔
