بلوچستان میں 2 بچیوں سمیت6 خواتین قتل ہوئیں ،آسماء جتک بے یارومدگار ہے ،صوبائی اسمبلی کی خواتین ارکان کو صرف نوشکی کا واقعہ ہی کیوں نظر آیا۔روزینہ خلجی

 


کوئٹہ ( نامہ نگار) سوشل ایکٹیوسٹ روزینہ خلجی نے گزشتہ روز نوشکی کے کلی مینگل میں پیش آنے والے انسانیت سوز واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ظلم جہاں بھی ہو، اس کے خلاف آواز بلند کرنا ہر شہری کا فرض ہے۔

انھوں نے کہا کہ نوشکی کلی مینگل کے واقعے پر آواز اٹھانا بالکل درست ہے، لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ اسی روز بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 2 بچیوں سمیت 6 خواتین قتل ہوئیں ،مگر صوبائی اسمبلی کی چار خواتین ارکان کی پریس کانفرنس میں صرف نوشکی کے واقعے کی مذمت کی گئی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بلوچستان میں ہونے والے دیگر مظالم نظر نہیں آتے؟ کیا ان واقعات میں جان سے جانے والی خواتین اور بچوں کی زندگیاں کم اہم ہیں

انہوں نے کہا کہ نصیرآباد میں دو معصوم بچوں کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا، لیکن اس واقعے کا پریس کانفرنس میں کوئی ذکر نہیں کیا گیا اسی طرح قلعہ عبداللہ میں سفر کے دوران ایک گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں دو معصوم بچیاں قتل ان کی ماں شدید زخمی ہوئی جو زندگی موت کی کشمکش میں ہے ،قلات ریج سے خاتون کی تشدد زدہ نعش بر آمد ہوئی ،جبکہ اسماء جتک کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف بھی اہلِ خانہ انصاف کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، مگر اس واقعے کو بھی نظرانداز کیا گیا،وہ اہخانہ سمیت تحفظ کی اپیل کر رہی ہیں ۔
روزینہ خلجی نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کی خواتین ارکان عوام کی نمائندہ ہیں اور ان کی ذمہ داری ہے کہ بلوچستان میں کسی بھی خاتون بچے یا شہری کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف بلاامتیاز آواز بلند کریں۔ کسی ایک واقعے کی مذمت اور دیگر واقعات پر خاموشی اختیار کرنا انتہائی افسوسناک اور تشویشناک ہے

انہوں نے کہا کہ ظلم، ظلم ہوتا ہے، چاہے وہ نوشکی میں ہو، نصیرآباد میں، قلعہ عبداللہ میں یا بلوچستان کے کسی بھی دوسرے علاقے میں۔ مظلوم کی آواز سننا اور ظالم کے خلاف آواز بلند کرنا کسی سیاسی وابستگی یا علاقے کا محتاج نہیں ہونا چاہیے

سوشل ایکٹیوسٹ روزینہ خلجی نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین اور بچوں کے قتل کے واقعات پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے تمام واقعات کی یکساں اور بھرپور مذمت ہونی چاہیےانہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام واقعات کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post