کوئٹہ ( پریس ریلیز ) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل اور ان کے فرزند میر گورگین مینگل کی ہرزہ سرائی ، جھوٹ پر مبنی بیانات ، پروپیگنڈہ ویڈیو ز کے ذریعے عوام کے دلوں سے نہیں نکالا جا سکتا سردار اختر جان مینگل ، پارٹی قیادت بلوچ قومی جہد سے سچی وابستگی رکھتے ہیں اصولی سیاست اور ثابت قدمی سے کہیں دہائیوں سے وابستہ ہیں بڑھتی ہوئی مقبولیت سے سازشی عناصر خائف اور بوکھلاہٹ کا شکار ہیں بیان میں کہا گیا کہ وڈھ میں امن قائم اور دکانروں کو تحفظ دینے کے بعد ڈیتھ سکواڈ اور ان کے حواری حواس باختہ ہو چکے ہیں پارٹی قائد اور ان کے خاندان نے بلوچستانی عوام کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا لاپتہ افراد کا مسئلہ ہو ، آپریشن ہو ، ظلم و زیادتی ہو ، انسانی حقوق کی پامالی ہو سردار اختر جان مینگل نے عوام کے حقوق کیلئے ہمیشہ آواز بلند کی بیان میں کہا گیا کہ ہم بخوبی آگاہی رکھتے ہیں کہ سردار اختر جان مینگل قیادت ، ثابت قدمی سے خوفزدہ عناصر ایک پیج پر یکجا ہیں جن میں سرکاری سرپرستی میں چلنے والے ڈیتھ اسکواڈز، جنگی منافع خور 47کے حکمران و دیگر عوام دشمن قوتیں شامل ہیں، جو ہمیشہ بلوچستان کے امن، قومی وحدت اور سیاسی شعور کو نقصان پہنچانے کی سازشوں میں مصروف رہےہیں آج ان تمام عناصر کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سردار اختر جان مینگل کی اصولی، بے باک اور عوامی سیاست ان کے مذموم عزائم کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔سردار اختر جان مینگل نے ہمیشہ ظلم، جبر، انسانی حقوق کی پامالی، ریاستی زیادتیوں اور ہر قسم کی بربریت کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر اپنے عوام کا دفاع کیا ہے بلوچ عوام کے جان و مال، عزت، کاروبار اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کی اور کبھی بھی کسی دباو ¿ یا مصلحت کو اپنی جدوجہد پر غالب نہیں آنے دیا۔ سردار اختر جان مینگل کی سیاست کا بنیادی محور ہمیشہ بلوچستان کے ساحل و وسائل کا تحفظ،سرزمین بلوچستان کا دفاع، بلوچ قومی تشخص کا تحفظ اور بلوچ عوام کے جان و مال، عزت اور عوام خصوصا"نوجوان نسل کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ جھوٹ ، من گھرٹ باتوں سے سیاسی اکابرین کی ساکھ کو نہ پہلے نقصان پہنچایا جا سکا نہ مستقبل میں سازشی عناصر اوچھے ہتھکنڈوں میں کامیاب ہوں گے بیان میں سازشی عناصر کی سوشل میڈیا پر خاطر تواضع کرانے پر عوام کا بھی شکریہ ادا کیا گیا۔
آپ کو علم ہے چند گزشتہ ہفتے مینگل قبیلہ کے میراجی شاخ کے خواتین بچوں نے پریس کانفرنس دوران الزام عائد کیاتھا کہ گورگین اور اسکے بندوق بردار لوگ حملہ آور ہوئے خواتین بچوں کو ہراساں کیااور فائرنگ کی ،انھوں نے فائرنگ دوران نقصان ہونے والے چیزوں کی تصاویر سولر پلیٹ وغیرہ بھی دکھائے تھے ۔
پھر وڈھ میں حکومتی سرپرستی میں امن فورسز قائم کرنے کی بیان جاری ہوا جس میں کہاگیاتھا کہ میر گورگین کی قیادت میں فورسز کام کرے گی۔
ان دونوں واقعات پر سوشل میڈیا میں سخت عوامی ردعمل سامنے آیا ہرطرف بی این پی خصوصا گورگین کے بارے مذمتی بیانات جاری ہوئے اور سوشل میڈیا صارفین نے انھیں آڑے ہاتھوں لیا ،بی این پی کے حالیہ پریس ریلیز پر بھی ایک صارف میر عزیز مری نے لکھا ہے کہ بی این پی والوں کی زندگی اسی طرح غلامی میں گزرے گی پہلے باپ کے غلام پھر بیٹے کے غلام ابھی پوتے کے غلام رہے ہیں گے ۔
