شہزادہ آغا عبدالکریم خان احمد زئی بلوچ ، جبری الحاق کے خلاف اولین مزاحمتی سرخیل

 


آغا عبدالکریم خان احمد زئی کو بلوچ قومی جہد میں اولین مزاحمتی رہنماء کی حیثیت حاصل ہے. انگریزوں کی ہندوستان چھوڑنے کے وقت بلوچستان کی قانونی طور پر آزاد ریاست والی پوزیشن بحال ہوگئی. 11 اگست 1947 کو بلوچستان کی آزادی کا اعلان ہوا. خان احمد یار خان اس وقت بلوچستان کے سربراہ تھے. آغا عبدالکریم خان احمد زئی خان قلات کے چھوٹے بھاہی تھے اور اس وقت گورنر مکران تھے پاکستان کے ساتھ جبری الحاق کے مسئلہ پر آغا عبدالکریم خان احمد زئی مکران سے قلات آئے اور اپنے کافی ساتھیوں کے ہمراہ بہ طرف قندھار افغانستان روانہ ہوئے۔آغا صاحب کے قافلے میں مختلف بلوچ قباہل کے افراد، سیاسی و قباہلی زعماء اور اس وقت کے مانے ہوئے بلوچ علماء بھی شریک ہوئے اور یہ قافلہ 16 مئی 1948 کو کردگاپ کے مقام پر رات کے وقت سرحد پار کرکے افغانستان کے حدود میں داخل ہوا. افغانستان میں مختصر عرصے کے قیام اور افغانستان کی طرف سے بلوچستان کی اولین مزاحمتی تحریک کو خاطر خواہ کمک حاصل ہونے میں ناکامی پر آغا عبدالکریم خان احمد زئی اپنے لشکر کے ہمراہ واپس بلوچستان آگئے. آغا صاحب نے اس دوران بلوچستان میں موجود سیاسی پارٹیوں کو مزاحمتی جدوجہد میں شریک ہونے کی دعوت دی. بلوچ سیاسی پارٹیوں نے مزاحمتی تحریک کی حمایت کی یوں اس اولین مزاحمت کو ایک مکمل سیاسی و مزاحمتی جدوجہد کہا جا سکتا ہے.
قلات کے پہاڑوں سے آغا عبدالکریم خان اور ان کے جدوجہد آزادی میں شریک ہمراؤں کو پاکستان کی نوزائیدہ ریاست نے گرفتار کیا اور مچھ جیل میں مقدمہ بغاوت کی سماعت کے بعد 4 دسمبر 1948 کو آغا عبدالکریم خان احمد زئی اور ان کے دوسرے رفقاء کو مختلف عرصوں تک قید بامشقت کی سزاہیں دی گئیں بلوچ تحریک آزادی کے اولین مزاحمتی سرخیل آغا عبدالکریم کے پاکستان کو ماننے سے انکار نے بلوچ قومی تحریک کو ایک مضبوط اور قانونی جواز فراہم کی. آج 4 جولاہی کو بلوچ قومی تحریک آزادی کے اس اولین رہنماء کی برسی ہے. وہ 4 جولاہی 1986 کو وفات پاگئے اور قلات میں مدفن ہوہے.

) شکریہ باور نیوز )

Post a Comment

Previous Post Next Post