کوئٹہ ( نامہ نگار ) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے وڈھ مینگل کوٹ میں ریاستی سرپرستی میں سرگرم ڈیتھ اسکواڈ کی جانب سے کیے گئے مسلح حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ بلوچستان میں ایک مرتبہ پھر بدامنی، خوف و ہراس اور خانہ جنگی کی فضا پیدا کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش کا تسلسل ہے۔
ترجمان نے کہا کہ حملہ آوروں کو مقامی سطح پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں انہیں پسپائی اختیار کرنا پڑی، جبکہ اس دوران مینگل کوٹ میں متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ اس تمام صورتحال کی ذمہ داری ان عناصر پر عائد ہوتی ہے جو ریاستی سرپرستی میں ڈیتھ اسکواڈز کو استعمال کرکے بلوچستان کے سیاسی و سماجی ماحول کو مسلسل آلودہ کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچ قومی اور قبائلی روایات میں اس نوعیت کے بزدلانہ حملوں، مسلح جتھوں کے ذریعے خوف و دہشت پھیلانے اور سیاسی اختلافات کو تشدد کے ذریعے دبانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ ڈیتھ اسکواڈز کے ذریعے بلوچ معاشرے کو تقسیم کرنے، قبائل کو آمنے سامنے لانے اور سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ بلوچستان کے امن کے خلاف کھلی جارحیت ہے۔
مرکزی ترجمان نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی واضح کرنا چاہتی ہے کہ ڈیتھ اسکواڈز کو دوبارہ متحرک کرکے حالات کو خراب کرنے کی ہر کوشش کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ ایسے ہتھکنڈوں سے نہ تو عوام کی سیاسی آواز کو دبایا جا سکتا ہے اور نہ ہی بلوچستان کے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹائی جا سکتی ہے۔
آخر میں کہاکہ بلوچستان نیشنل پارٹی اس بزدلانہ حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور خبردار کرتی ہے کہ اگر ڈیتھ اسکواڈز کی سرپرستی اور انہیں کھلی چھوٹ دینے کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج کی تمام تر ذمہ داری ان قوتوں پر عائد ہوگی جو بلوچستان میں امن کے بجائے بدامنی اور تصادم کی سیاست کو فروغ دے رہی ہیں۔ پارٹی بلوچ عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اشتعال انگیزی، انتشار اور سازشی منصوبوں کو ناکام بناتے ہوئے قومی اتحاد، سیاسی شعور اور بلوچ روایات کے تحفظ کے لیے متحد رہیں۔
