گوادر (نامہ نگار) گوادر میں 'بیچ چم' مچھلی کے شکار پر عائد مبینہ پابندی اور گزشتہ روز لاکھوں روپے مالیت کی شکار شدہ مچھلی فیکٹریوں تک پہنچنے سے روکنے کے خلاف سینکڑوں ماہی گیروں نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے پدی زر کے ساحل سے ایک بڑی ریلی نکالی اور شہر کے مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے گوادر پولیس تھانے کے سامنے دھرنا دے دیا۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ انہیں فوری طور پر بیچ چم مچھلی کے شکار کی اجازت دی جائے اور مچھلی فیکٹریوں تک لے جانے سے روکنے والے عناصر کے خلاف فوری طور پر مقدمہ (ایف آئی آر) درج کیا جائے۔
احتجاج کی بنیادی وجوہات اور ماہی گیروں کا مؤقف
۱۔ امتیازی اور غیر منصفانہ پابندی کا الزام
احتجاجی ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ 'بیچ چم' مچھلی کا شکار ضلع گوادر کے دیگر تمام ساحلی علاقوں بشمول اورماڑہ، پسنی اور سربندن میں معمول کے مطابق جاری ہے، لیکن صرف گوادر شہر کے حدود میں اس پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو سراسر امتیازی، غیر منصفانہ اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔
۲۔ لاکھوں روپے کا مالی نقصان
ماہی گیروں کے مطابق گزشتہ روز انہوں نے کروڑوں روپے کے وسائل استعمال کر کے بیچ چم مچھلی کا شکار کیا تھا۔ تاہم، چند بااثر یا شرپسند عناصر نے اس قیمتی مچھلی کو فیکٹریوں تک پہنچنے سے زبردستی روک دیا۔ بروقت سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے مچھلی خراب ہونے کا اندیشہ پیدا ہوا، جس کے باعث غریب ماہی گیروں کو لاکھوں روپے کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔
۳۔ روزگار اور معیشت پر سنگین اثرات
مظاہرین نے واضح کیا کہ 'بیچ چم' ایک قیمتی برآمدی مچھلی (Export Quality Fish) ہے جس کی بیرون ملک بہت زیادہ مانگ ہے۔ اس مچھلی کی تجارت سے گوادر کے سینکڑوں غریب خاندانوں کا چولہا جلتا ہے۔ اس پر بلا جواز پابندی ماہی گیروں کے منہ سے نوالہ چھیننے کے مترادف ہے۔
ریلی اور دھرنے کی تفصیلات
ذرائع کے مطابق احتجاج کا آغاز پدی زر کے خوبصورت ساحل سے ہوا۔ ریلی میں ماہی گیروں کی کثیر تعداد شریک تھی جنہوں نے اپنے مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔ ریلی گوادر کی اہم شاہراہوں سے گزرتی ہوئی جب گوادر پولیس تھانے پہنچی تو مظاہرین وہاں دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔
مظاہرین کے دھرنے کی وجہ سے پولیس اسٹیشن کے اطراف سیکیورٹی سخت کر دی گئی، جبکہ ماہی گیروں نے واضح کیا کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اور نقصان کے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی نہیں ہوتی، ان کا احتجاجی دھرنا جاری رہے گا۔
مظاہرین کے اہم مطالبات
1. شکار کی فوری اجازت: گوادر شہر کے سمندر میں 'بیچ چم' مچھلی کے شکار پر عائد ہر قسم کی زبانی یا تحریری پابندی کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔
2. ایف آئی آر کا اندراج: گزشتہ روز ماہی گیروں کی مچھلی گاڑیاں روک کر لاکھوں روپے کا نقصان پہنچانے والے افراد کے خلاف گوادر پولیس تھانے میں مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کیا جائے۔
3. معاشی تحفظ کا یقین: حکومت اور محکمہ فشریز گوادر کے ماہی گیروں کے معاشی مفادات کا تحفظ یقینی بنائے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنا حلال روزگار کما سکیں۔
