امریکہ ( نامہ نگات ) جب بھی فرانس اور سپین فٹبال کے میدان میں آمنے سامنے آتے ہیں تو یہ صرف دو یورپی طاقتوں کا مقابلہ نہیں ہوتا بلکہ ایک صدی پر محیط ایسی رقابت کا نیا باب ہوتا ہے، جس میں تاریخی فتوحات، تلخ شکستیں، آنسو، تنازعات اور یادگار لمحات سب کچھ شامل ہے۔
دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا میچ 1922 میں ہوا تھا۔ ابتدائی برسوں میں سپین کا پلڑا واضح طور پر بھاری رہا۔ اسی دور میں فرانس کو کئی بڑی شکستوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں 1929 میں ہونے والی 8-1 کی شکست بھی شامل ہے۔
اس میچ میں ریال میڈرڈ کے سٹرائیکر گاسپار روبیو نے چار گول کر کے فرانس کے دفاع کو تہس نہس کر دیا تھا۔
1930 اور 1940 کی دہائی میں بھی سپین کی برتری برقرار رہی۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران بھی دونوں ٹیمیں مدمقابل آئیں اور سپین نے فرانس کو باآسانی شکست دی۔
بعد ازاں کوچ بینیٹو دیاز کی قیادت میں سپین نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور 1949 میں پیرس میں فرانس کو 5-1 سے شکست دے کر یہ ثابت کیا کہ وہ یورپ کی مضبوط ترین ٹیموں میں شامل ہو چکا ہے۔
تاہم وقت کے ساتھ یہ مقابلہ یکطرفہ نہیں رہا۔ 1950 کی دہائی سے دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلے زیادہ متوازن ہونے لگے، لیکن اس کہانی کا سب سے اہم موڑ یورو 1984 کا فائنل ثابت ہوا۔
یہ پہلا موقع تھا جب فرانس اور سپین کسی بڑے آفیشل ٹورنامنٹ میں آمنے سامنے آئے۔ پیرس میں کھیلے گئے فائنل میں میزبان فرانس نے سپین کو شکست دے کر پہلی مرتبہ یورپی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ اسی میچ کے بعد ہسپانوی میڈیا نے ایک نئی اصطلاح استعمال کرنا شروع کی، جسے بعد میں 'فرینچ کرس' (French Curse) کہا گیا۔
