شال ( نامہ نگار)
جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے جدوجہد کرنے والی تنظیم واہس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اطلاعات کے مطابق حیدر علی کی لاش گزشتہ روز جیوانی سے برآمد ہوئی۔ جو پہلے سے جبری لاپتہ تھے، ان کے اہلِ خانہ نے 25 اگست 2025 کو گوادر میں ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے ان کی بحفاظت بازیابی کے لیے احتجاجی دھرنا دیا تھا، تاہم افسوس کہ اب ان کی بے جان لاش ملی ہے۔
وی بی ایم پی کا مؤقف ہے کہ جبری لاپتہ افراد کو دورانِ حراست قتل کرنا ایک غیر آئینی، غیر قانونی اور ماورائے عدالت اقدام ہے جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر کسی فرد پر کوئی الزام ہو تو اسے ملکی آئین اور قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے تاکہ اسے منصفانہ قانونی عمل کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہو۔ ریاستی اداروں کو کسی بھی شخص کو ماورائے عدالت قتل کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
وی بی ایم پی حکومتِ پاکستان اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ حیدر علی کے ماورائے عدالت قتل کا فوری نوٹس لیا جائے، اس واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، اصل حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور اس غیر قانونی اقدام میں ملوث ذمہ دار افراد کو قانون اور انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
ہم ایک بار پھر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جبری گمشدگیاں اور دورانِ حراست ہلاکتیں نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ قانون کی حکمرانی اور انصاف کے اصولوں کے بھی منافی ہیں۔
