کوئٹہ پولیس اہلکاروں کی میتوں کے ہمراہ احتجاج، پاکستانی وزیراعظم اور آرمی چیف کی کوئٹہ آمد

 


کوئٹہ ( نامہ نگار ) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں حالیہ حملوں میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کا میتوں کے ہمراہ احتجاجی دھرنا جاری ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم اور آرمی چیف کوئٹہ پہنچ چکے ہیں، جہاں انہوں نے نیشنل ایکشن پلان کی صوبائی ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس طلب کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کوئٹہ اور ضلع زیارت میں مسلح حملوں میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی میتیں گزشتہ شب سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کی گئی تھیں۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر 21 میتیں ورثا کے حوالے کی گئیں، جن میں سے آٹھ کو تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقوں میں منتقل کر دیا گیا، جبکہ دیگر میتوں کے ہمراہ لواحقین نے احتجاج شروع کر دیا۔
کوئلہ پھاٹک کے مقام پر زیارت میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے اہل خانہ نے متعدد میتیں سڑک پر رکھ کر دھرنا دے دیا، جس کے باعث سمنگلی روڈ سمیت شہر کی جانب آنے والی مرکزی شاہراہوں پر ٹریفک معطل ہو گئی۔
ادھر ایئرپورٹ روڈ پر ہنہ اوڑک میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے لواحقین بھی مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ ان کے مطالبات پورے ہونے تک میتوں کی تدفین نہیں کی جائے گی۔ اس احتجاج کے باعث ایئرپورٹ روڈ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں آمدورفت شدید متاثر رہی۔
بعد ازاں زیارت حملے میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی میتیں بھی ایئرپورٹ روڈ پر قائم مرکزی دھرنا گاہ منتقل کر دی گئیں۔
کوئٹہ ریڈ زون کے اطراف تمام داخلی و خارجی راستے سیل کر دیے گئے ہیں، جبکہ کوئٹہ کینٹ میں داخلے پر بھی عارضی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ علاقے میں پولیس، فرنٹیئر کور اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں کوئٹہ میں نیشنل ایکشن پلان کی صوبائی ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس جاری ہے۔ اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کر رہے ہیں، جبکہ اس میں آرمی چیف، گورنر بلوچستان، وزیراعلیٰ بلوچستان، وفاقی وزراء، اعلیٰ عسکری حکام اور سیکیورٹی اداروں کے سربراہان شریک ہیں۔
کوئٹہ میں جاری احتجاج اور سیکیورٹی اقدامات کے باعث شہر کی معمول کی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post