کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک اور کلی ببری کے مقامی قبائل کا مسلح تنظیموں کے خلاف احتجاج جاری

 


کوئٹہ ( نامہ نگار ) پاکستانی فورسز کے بنائے گئے نام نہاد  امن کمیٹی کے  جاری احتجاج دوران مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں۔
انھوں نے مطالبہ کیاکہ امن دشمن عناصر کے خلاف ریاستی ادارے مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات کریں قبائل ساتھ دیں گے۔
قبائلی رہنماؤں کا اظہارِ یکجہتی، امن و استحکام کے لیے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کرتے ہیں ۔

وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے مطالبہ ہے امن و امان کی بحالی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
ہم اپنے شہید ہونے والے بھائیوں پر فخر ہے اور پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
امن دشمن عناصر ہمیں اپنے اداروں سے دور نہیں کر سکتے فورسز کاروائی کریں ہم ان سے آگے دہشت گردوں کا مقابلہ کریں گے۔
مسلح افراد حلیے کے لحاظ سے بظاہر ٹی ٹی پی کے لگتے تھے انکے پیچھے کون ہوسکتا ہے سب جانتے ہیں۔ مقامی قبائل
آپ کو علم ہے علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج خود مزکورہ علاقوں سے بے خل کرنا چاہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ ٹی ٹی پی یا بی ایل اے کا شوشہ چھوڑ رہے ہیں ،حالاں کہ سب کو معلوم ہے گزشتہ روز کے سانحہ میں 3 سو کے قریب مسلح سرکاری کارندے علاقہ کو گھرلیا جہاں 4 افراد کو قتل جبکہ 20 کے قریب افراد کو اغوا کرکے لے گئے ،بعدازاں 9 مغویوں کو قتل کرکے پھینک دیا ۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ ایف سی نے موقعہ کا فائدہ اٹھاکر چیک پوسٹ قائم کردیا ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post