عوامی لشکر کشی اور ریاستی عزائم تحریر :- جانان کاکڑ



اس وقت ریاست بلوچستان میں عملاً اپنی رِٹ کھو چکی ہے۔ اس کی عمل داری فوجی کنٹونمنٹ اور ریڈ زون تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، مگر وہ چاہتی ہے کہ اس کے سکیورٹی ادارے اربوں روپے کا بجٹ بدستور وصول کرتے رہیں، جبکہ اس کی ہاری ہوئی جنگ نہتے عوام لڑیں۔
ایک موقع پر جنرل حمید گل سے پوچھا گیا کہ ریاست نان اسٹیٹ ایکٹرز اور مجاہدین کو کیوں پالتی ہے، اس سے اسے کیا فائدہ ہوتا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ انہیں مذہبی رنگ دے کر آسانی سے برین واش کیا جا سکتا ہے، اور ایک عام فوجی کے مقابلے میں، جس کی تربیت، تنخواہ، پنشن اور دیگر مراعات پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں، ایک مجاہد نہایت کم لاگت میں دستیاب ہو جاتا ہے۔ اس کی اصل تربیت برین واشنگ ہوتی ہے، یوں انتہائی کم خرچ میں ایک "محبِ وطن" جانباز تیار کر لیا جاتا ہے۔
وقت گزرتا گیا، مگر اب ان مجاہدین کی جگہ نہتے عوام کو استعمال کرنے کی تیاری ہو رہی ہے۔ وطن سے محبت کا چورن بیچ کر انہیں جنگ کا ایندھن بنانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اسی منصوبے کے تحت ہنہ اوڑک میں نہتے لوگوں کو ایک مسلح گروہ کے سامنے لا کھڑا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
آج ہنہ اوڑک کی صورتِ حال میں بھی یہی پرانا طریقۂ واردات دکھائی دیتا ہے، جس کی منصوبہ بندی بہت پہلے کی جاچکی ہےاور اب اس کے نتائج سامنے آنے لگے ہیں، جبکہ ہمارے سادہ لوح لوگ، دانستہ یا نادانستہ، اس جال میں پھنستے جا رہے ہیں۔
ریاست نے قبائلی علاقوں میں بھی یہی فارمولا آزمایا۔ لشکروں اور امن کمیٹیوں کے ذریعے اپنی جنگ عوام کے کندھوں پر ڈال کر لڑنے کی کوشش کی گئی، جس کے نتیجے میں پشتونوں کی ایک پوری نسل تباہ ہو گئی۔ اب یہی کھیل بلوچستان کے پشتون بیلٹ میں کھیلا جا رہا ہے۔
ایک منجھے ہوئے سیاست دان اور قومی رہنما کی جانب سے پشتون قومی لشکر کی بات ہو، نور محمد دمڑ اور بخت کاکڑ جیسے فارم 47 کی پیداوار افراد کی جانب سے کالعدم تنظیموں کے خلاف لشکر کشی کا اعلان ہو، یا گزشتہ شب سینیٹر منظور کاکڑ کا یہ کہنا کہ: "ہم نے ریاستی اداروں کو بارہا کہا ہے کہ آپ ان مسلح گروہوں کے خلاف قدم بڑھائیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ عوامی لشکر کے ذریعے ان گروہوں کو شکست دیں گے۔"
کوئی کاکڑ صاحب سے پوچھے:
میر کیا سادہ ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں
منظور کاکڑ کی پشتون قوم سے اپنی وفاداری خود مشکوک رہی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ وہ اسی بلوچستان عوامی پارٹی کے روحِ رواں ہیں جسے راتوں رات تشکیل دے کر بلوچستان پر مسلط کیا گیا۔
اگر یہ لوگ واقعی پشتون قوم کے خیرخواہ ہیں اور، ان کے بقول، پاکستان کے آئین اور قانون پر یقین رکھتے ہیں تو پھر اپنی جلسے جلوسوں میں اور اسمبلی کے فلور پر یہ لوگ کس آئین اور کس قانون کے تحت مسلح لشکر بنانے کی بات کرتے ہیں؟ اگر انہیں واقعی جمہوریت، آئین اور قانون پر رتی بھر بھی یقین ہے تو آئینی فورم پر نان اسٹیٹ ایکٹرز پر مشتمل لشکر کی بات کرنے پر ان کا احتساب ہونا چاہیے۔
اگر یہ واقعی جمہوری لوگ ہیں تو عوام کو منظم کریں، عوامی طاقت کا مظاہرہ کریں اور ریاست سے جواب طلب کریں کہ ہر برائی اور ہر تباہی کے پیچھے اس کا ہاتھ کیوں دکھائی دیتا ہے؟
عوامی قوت کو اکٹھا کر کے طاقت کے مراکز، خصوصاً کنٹونمنٹ کے سامنے دھرنا دیا جائے اور اس وقت تک نہ اٹھا جائے جب تک ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور مقتدرہ تحریری ضمانت نہ دیں۔ اگر ہزارہ برادری، جو کوئٹہ میں آٹے میں نمک کے برابر ہے، اپنی نسل کشی کے خلاف اس وقت کے آرمی چیف جاوید قمر باجوہ کو کوئٹہ آنے پر مجبور کر سکتی ہے تو پشتون، اتنی بڑی تعداد میں ہوتے ہوئے، ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟
اگر طاقت کے مراکز کے سامنے احتجاج میں جانی نقصان کا خدشہ ہے تو مسلح گروہوں کے خلاف لشکر کشی میں اس سے کہیں زیادہ خون بہنے کا اندیشہ موجود ہے۔ اور ریاست بھی یہی چاہتی ہے کہ لوگ آپس میں لڑتے رہیں، کٹتے اور مرتے رہیں جبکہ وہ خود معصوم اور بے گناہ عوام کی لاشوں پر اپنی رِٹ برقرار رکھے۔
یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ دھرنے تو جاری ہیں اور حکومت سے جواب طلبی بھی ہو رہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان دھرنوں سے کچھ نہیں بدلے گا۔ وقتی طفل تسلیاں دی جائیں گی اور پھر وہی پرانا کھیل دوبارہ شروع ہو جائے گا۔ جب تک دھرنے کنٹونمنٹ کے مرکزی دروازوں کے سامنے نہیں ہوں گے، کوئی حتمی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔
اس وقت ریاست کالعدم تنظیموں کے خلاف عوامی لشکر کشی کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ ریاستی ٹاوٹس بھی اسے جائز قرار دیتے ہوئے شادیانے بجا رہے ہیں کہ "غیور قبائلیوں نے دہشت گردوں کو پسپا کر دیا۔"
یہ سب دیکھ کر کوئی بھی باشعور انسان آسانی سے اس نتیجے پر پہنچ سکتا ہے کہ ریاست خود ایسا ماحول بنا رہی ہے جہاں عوام اور کالعدم مسلح تنظیمیں آمنے سامنے ہوں، تاکہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے، جبکہ ریاست تماشائی بن کر پشتون نسل کشی سے فائدہ اٹھاتی رہے۔
میرا ان حکومتی چمچوں اور ٹاوٹس سے سوال ہے جو عوامی لشکر کے نام پر نہتے لوگوں کو ڈھال بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں: کیا دہشت گردوں سے لڑنا قبائل کی ذمہ داری ہے؟ اگر ہے تو پھر ریاست سرنڈر کر دے اور ملک کا نظم و نسق قبائل کے حوالے کر دے۔ اگر نہیں، تو پھر عوام کو مذہبی جذبات اور حب الوطنی کے نام پر برین واش کر کے جنگ میں کیوں دھکیلا جا رہا ہے،کیا یہ اس لیے نہیں کیا جارہا تاکہ کل جب ریاست اپنا مقصد حاصل کر لے تو انہی لوگوں کو غیر مسلح کرنے کے نام پر ختم کر کے پشتون نسل کشی کا ایک اور باب رقم کیا جائے؟
آج نور محمد دمڑ ،بخت کاکڑ اور منظور کاکڑ جیسے لوگ سادہ لوح عوام کو کینٹ کے توسیعی منصوبے سے جڑی اس مشکوک جنگ میں دھکیل رہے ہیں۔
میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ پشین میں جب سادات ثالثین کو گولیوں سے بھون ڈالا گیا تو آپ کا ردِعمل کیا تھا؟ جب ثالثین کی جانب سے بارہا پیغام دیا گیا کہ ملزمان سرنڈر کرنے پر آمادہ ہیں تو پھر انہیں ثالثین سمیت بے دردی سے کیوں مار دیا گیا؟ وجہ واضح تھی، اگر ملزمان زندہ رہتے تو ریاست کا مکروہ کردار بے نقاب ہو جاتا اور وہ بتا دیتے کہ انہیں استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تھی، اور انکار پر انہیں راستے سے ہٹایا جا رہا ہے۔
اسی طرح گزشتہ دنوں میزئی اڈہ میں سابق افغان عسکر نے ریاستی مشینری کا سہارا لے کر ایک گھر میں گھس کر پشتون روایات، چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا، عبید اللہ کاکڑ سمیت چار افراد کو قتل کیا اور کئی گھریلو خواتین کو زخمی کیا۔
کیا آپ نے ریاست سے پوچھا کہ ریاستی سرپرستی میں سابق افغان فوجی بلوچستان کے گلی محلوں ،چوکوں اور چوراہوں پر کیا کر رہے ہیں؟ عبید اللہ کے کردار سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، مگر عبید اللہ اور ان جیسے دیگر کمانڈروں کو اس حد تک کھلی چھوٹ کون دیتا ہے؟
جہاں بھی برائی کا سراغ لگایا جائے، اس کے پیچھے ریاست ہی کیوں دکھائی دیتی ہے؟
نور محمد دمڑ اور منظور کاکڑ صاحب! آپ دونوں طاقتور اداروں کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ کیا آپ حلفاً کہہ سکتے ہیں کہ آپ کو اس بات کا علم نہیں کہ بعض کمانڈروں کے سامنے دو راستے رکھے گئے ہیں: یا تو کالعدم تنظیموں کے خلاف ریاست کا ساتھ دیں، یا پھر ثناء اللہ آغا اور عبید اللہ کاکڑ جیسا انجام بھگتنے کے لیے تیار رہیں؟
کیا ریاستیں ماں کا کردار اس طرح ادا کرتی ہیں؟ پہلے لوگوں کو مسلح کریں، انہیں کھلی چھوٹ دیں، پھر جب وہ اشاروں پر نہ چلیں تو ان کا خاتمہ کر دیں؟
اگر یہی ریاست ہے تو پھر سانپ اور ڈائن میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟
خدارا پشتون قوم پر رحم کریں۔ اگر مسلح گروہوں کے خلاف قوم کو ایک لاحاصل جنگ میں جھونکنا ہی مقصود ہے تو اس سے بدرجہا بہتر ہے کہ طاقت کے مراکز کے سامنے اپنی قوت کا مظاہرہ کریں اور ان سے جواب طلب کریں۔ اگر وہاں شہید بھی ہو جائیں تو کم از کم آنے والی نسلیں ریاست کے دجل و فریب سے آگاہ ہوں گی، اور آپ کی قربانی قوم کے کچھ تو کام آئے گی۔
حالیہ رچائے گئے اس پورے کھیل کی حقیقت یہ بھی ہے کہ ہنہ اوڑک اسٹریٹیجک لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ کالعدم تنظیموں کے نام پر وہاں ہونے والی مشکوک سرگرمیاں دراصل کوئٹہ چھاؤنی کے توسیعی منصوبے کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔
کوئٹہ کنٹونمنٹ کے دفاعی نقطۂ نظر سے ہنہ اوڑک کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ تقریباً دس برس قبل حکومت نے کہا تھا کہ آبادی کو منتقل کر کے وہاں فوجی چھاؤنیاں قائم کی جائیں گی۔ اب ریاست اس منصوبے پر عملی طور پر کام شروع کر چکی ہے۔ پہلے منگلہ کو خالی کرایا گیا، جہاں کوئی خاص مزاحمت نہیں ہوئی۔اس سے شہہ پاکر اب ہنہ اوڑک پر قبضے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ ٹی ٹی پی والے ہنہ اوڑک میں کہاں سے آ گئے؟ دو قدم کے فاصلے پر کوئٹہ کینٹ موجود ہے۔ اتنے سخت سکیورٹی زون میں ہنہ اوڑک کے لوگ دہشت گردی کا شکار کیسے ہو سکتے ہیں؟
حقیقت یہی ہے کہ یہ ایک مصنوعی جنگ ہے، جسے ریاست نے خود ڈیزائن کیا ہے۔
اگر پشتون قبائل نے اب بھی اتفاق نہ کیا تو کاکڑوں کی باقی ماندہ زمینیں بھی ڈی ایچ اے اور کینٹ میں تبدیل ہو جائیں گی۔
پانی سر سے گزر رہا ہے۔ جتنا جلد ممکن ہو، پشتونوں کو اپنے اصل دشمن کی پہچان کرنی ہوگی۔ افسوس یہ ہے کہ جس ریاست نے یہ کھیل رچایا، سادہ لوح پشتون نوجوان اسی کے جال میں پھنستا جا رہا ہے۔
اگر آج بھی پشتون قوم اپنے اصل دشمن کو نہ پہچان سکی اور اسی کے ہاتھوں استعمال ہوتی رہی تو تاریخ اسے معاف نہیں کرے گی۔

بقول شاعر (ترمیم کے ساتھ):

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے بلوچستان والو!
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

Post a Comment

Previous Post Next Post