بلوچستان کے شاہراہوں پر مبینہ غیر قانونی وصولیاں، سوالات کے جواب کون دے گا،یہ پیسے کن کن کے اکاؤنٹ میں جارہی ہیں،عوامی حلقے

 


کوئٹہ ( پریس ریلز ) بلوچستان کی شاہراہوں، خصوصاً سرحدی راستوں پر تیل بردار گاڑیوں سے مبینہ غیر قانونی وصولیوں کے حوالے سے ٹرانسپورٹرز، کاروباری حلقوں اور شہریوں کی جانب سے مسلسل شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ یہ دعوے نئے نہیں، بلکہ کافی عرصے سے عوامی بحث کا حصہ ہیں۔ اگر ان شکایات میں صداقت موجود ہے تو یہ معاملہ محض چند گاڑیوں یا چند چیک پوسٹوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ براہِ راست عوامی مفاد، گورننس اور ریاستی رٹ سے جڑ جاتا ہے۔
یہ تاثر عام کیا جا رہا ہے کہ بعض شاہراہوں پر تیل بردار گاڑیوں سے مختلف مقامات پر مبینہ طور پر رقوم وصول کی جاتی ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ اور سرکاری سطح پر تصدیق ہونا ابھی باقی ہے، تاہم ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر ایسی شکایات مسلسل سامنے آ رہی ہیں تو ان کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کیوں نہیں کرائی جاتیں؟ اور اگر یہ الزامات بے بنیاد ہیں تو متعلقہ ادارے عوام کے سامنے حقائق کیوں نہیں رکھتے؟
اقتصادی اصول واضح ہیں۔ جب مال برداری پر اضافی اخراجات عائد ہوتے ہیں، خواہ وہ قانونی ہوں یا غیر قانونی، ان کا اثر بالآخر صارفین تک پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ نقل و حمل پر بڑھنے والی ہر اضافی لاگت کا بوجھ تیل اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں عام شہری برداشت کرتا ہے۔ اسی لیے اس معاملے کی شفاف چھان بین محض ٹرانسپورٹرز کا نہیں بلکہ ہر صارف کا مسئلہ ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ریاستی اداروں کی ساکھ کا تقاضا یہی ہے کہ ان پر عائد ہونے والے کسی بھی الزام کو نظرانداز کرنے کے بجائے شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کے ذریعے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کیا جائے۔ تحقیقات اگر الزامات کو درست ثابت کریں تو قانون کے مطابق ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے، اور اگر یہ دعوے بے بنیاد ثابت ہوں تو متعلقہ اداروں کی ساکھ بحال کرنے کے لیے حقائق عوام کے سامنے لانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
جمہوری معاشروں میں اداروں کی مضبوطی خاموشی سے نہیں بلکہ جوابدہی سے آتی ہے۔ سوالات کا جواب دینا کمزوری نہیں بلکہ عوامی اعتماد کی بنیاد ہے۔ اس لیے صوبائی حکومت، متعلقہ محکموں اور نگرانی کے ذمہ دار اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس حساس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لیں، حقائق سامنے لائیں اور اگر کہیں کوئی بے ضابطگی موجود ہے تو اس کا مؤثر سدباب کریں۔
عوام کو بھی افواہوں کے بجائے حقائق درکار ہیں۔ شفاف تحقیقات، واضح مؤقف اور قانون کی یکساں عملداری ہی وہ راستہ ہے جس سے نہ صرف عوامی اعتماد بحال ہو سکتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت ہوگا کہ بلوچستان میں قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی کو بھی عوامی مفاد کے خلاف کام کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
مبینہ ناکے سی پیک،ایم8 اور دیگر مین شاہراہوں پر لگے ہوئے ہیں۔یہ غیرقانونی عمل سب کے سامنے ہورہا ہے اور سب خاموش ہیں۔کیا یہ سب کی ملی بھگت سے ہورہا ہے۔؟یہ رقوم کن کن شخصیات،اداروں کے سربراہان کی اکاؤنٹ میں جارہی ہیں۔عوام جاننا چاہتی ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post