مستونگ کھڈ کوچہ میں مسافربسوں پر فائرنگ میں 4 مسافر ھلاک 3 زخمی ہونے کے بعد کرفیو نافذ

 

کوئٹہ ( نامہ نگار ) نوشکی، زہری اور جیونی کے بعد بلوچستان کے علاقے کھڈکوچہ میں بھی کرفیو نافذ،
حکام نے علاقے میں کرفیو نافذ کرکے تمام کاروباری سرگرمیوں اور شہری نقل و حرکت کو محدود کردیا ہے۔
بلوچستان کے ضلع مستونگ سے اطلاعات کے مطابق حکومت بلوچستان کے محکمہ داخلہ نے آج رات آٹھ بجے سے تاحکمِ ثانی مستونگ کی سب تحصیل کھڈکوچہ میں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
حکام کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ کرفیو کے دوران کوئی بھی شخص اپنے گھر سے باہر نہ نکلے، یہ حکمنامہ آج رات 8 بجے سے تاحکمِ ثانی نافذ العمل ہوگا۔
حکام نے دھمکی دی ہے کہ اگر کوئی شہری کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دیکھا گیا تو اسے گولی مار دی جائے گی، جس کے باعث شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ اسی طرح کا کرفیو گزشتہ کئی ماہ سے بلوچستان کے ضلع نوشکی اور خضدار کی تحصیل زہری میں بھی نافذ رہا، جہاں بلوچ آزادی پسندوں کے حملوں کے بعد پاکستانی فورسز نے شہریوں کو گھروں میں محصور رہنے اور فورسز کی ہدایات و اجازت کے بغیر سفر کرنے سے منع کردیا ہے۔
زہری اور نوشکی میں جاری کرفیو کے باعث ان علاقوں میں خوراک اور صحت کی سہولیات کا شدید فقدان پیدا ہوگیا تھا، جس کی بلوچ سیاسی تنظیموں نے شدید مذمت کی۔
اسی طرح رواں ماہ جیونی میں پاکستانی کوسٹ گارڈز پر بی ایل اے مجید بریگیڈ کے حملے کے بعد فورسز حکام نے علاقے میں کرفیو نافذ کردیا ہے، جو تاحال جاری ہے۔

علاقائی ذرائع کے مطابق کھڈ کوچہ میں کرفیو کا اعلان اس وقت کیا گیا جب مسلح افراد نے مسافر بسوں اور اور ایک کار کو نشانہ بنایا جن میں 2 خواتین سمیت 6 افراد ھلاک جبکہ 4 زخمی ہوگئے تھے۔
عوامی حلقوں کا  سوشل میڈیا پر کہنا ہے  کہ مسافر بسوں کو ڈاکووں نے نشانہ بنایا ہے جبکہ دوسرے حلقے کا کہنا ہے کہ بلوچ مسلح آزادی پسند گروہ کے افراد نے غالبا ناکہ دوران نہ رکنے پر مسافر بسوں کو نشانہ بنایا ہے ۔
دوسری جانب کسی مسلح تنظیم یا گروہ نے فائرنگ کے واقعات کی ذمہداری قبول نہیں کی ہے ۔

Post a Comment

Previous Post Next Post