زیارت پولیس اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپ دن بھر جاری رہنے بعد 35 اہلکار اغوا 15اہلکار ھلاک کردیئے

 


زیارت ( نامہ نگار ) زیارت  فیز تھری کچھ میں گزشتہ روز دن بھر مسلح افراد اور پولیس کے درمیان جھڑپ فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا تاہم  زیارت پولیس فورس کے تیس سے پینتیس افراد دن بھر مقابلہ کرنے کے بعد اسلحہ ختم اور تازہ کمک نہ پہنچنے کے بعد رات تقریباً گیارہ بجے مسلح افراد کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ،بعد ازاں مسلح افراد نے 35 کے قریب پولیس اہلکاروں کو اغوا کرکے لے گئے جن میں ڈی ایس پی زیارت دو ایس ایچ او اور 9 اہلکار کواس تھانہ سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ 5 اہلکار بحافظت مسلح افراد  کی چنگل سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے ،جنھیں زیارت  پولیس  نے ریسکیو کیا اغوا شدہ اہلکاروں میں محب اللہ ولد حاجی کوتان بھی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق زیارت سے اغوا ہونے والے 35 پولیس اہلکاروں میں سے 15 اہلکاروں کو مبینہ طور پر شہید کر دیا گیا ہے۔
تاحال اس حوالے سے متعلقہ حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق یا تفصیلات جاری نہیں کیے گئے ہیں نہی  سرکاری مؤقف سامنے آیا کا ہے۔
واقعے کے بعد علاقے میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ مزید معلومات اور سرکاری تصدیق سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
دوسری جانب زیارت خانوزئی کراس کے مقام پر عوام نے احتجاجاً مین شاہراہ نیشنل ہائی وے ہر قسم ٹریفک کیلئے بند کرکے احتجاج شروع کردیا ہے ۔

زیارت مانگی میں اغواء کے بعد شہید کیے گئے 9 پولیس اہلکاروں کی شناخت ہو گئی۔

1. انسپکٹر محمد حسین

2. انسپکٹر صحبت خان

3. عبد الباقی

4. منصور احمد

5. شیر محمد

6. سیف اللہ اشرف

◦ 3 دیگر جوان

[ ] شہداء میں سے 3 کا تعلق سنجاوی اور 2 کا تعلق زیارت سے ہے۔


Post a Comment

Previous Post Next Post