غزہ پٹی ( نامہ نگار ) بی بی سی فارسی کے مطابق حماس نے اس ادارے کو تحلیل کر دیا ہے جو تقریباً دو دہائیوں سے غزہ کی پٹی کا انتظام سنبھال رہا تھا۔ اس فیصلے کو حماس کی سیاسی حکمتِ عملی میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے، جس سے ایک ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے ذریعے علاقے میں شہری اور انتظامی امور چلانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
حماس 2007 سے غزہ کی انتظامیہ چلا رہی تھی، جب اس کی فورسز نے فتح سے اس علاقے کا کنٹرول حاصل کیا تھا۔ اس سے ایک سال قبل، 2006 میں، حماس فلسطینی پارلیمانی انتخابات میں کامیاب ہوئی تھی۔
گذشتہ سال اکتوبر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد سے یہ گروپ بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ غزہ کے روزمرہ انتظام سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار ہے، تاہم اسے غیر مسلح کا مسئلہ تاحال حل طلب ہے۔
حماس کے سرکاری اطلاعاتی دفتر کے سربراہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا:’محمد فرا، ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ نے باضابطہ طور پر اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا: ’یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس کمیٹی کو تحلیل کر دیا جائے تاکہ انتظامی اور حکومتی امور کی منتقلی کو غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی کے حوالے کرنے میں آسانی ہو۔
غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی، جو اس وقت قاہرہ میں قائم ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کے امن فریم ورک کے تحت تشکیل دی گئی تھی۔ امریکی صدر نے یہ فریم ورک اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے لیے ثالثی کے دوران متعارف کرایا تھا۔
حماس کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا: ’حماس نے ایک نیا قدم اٹھایا ہے اور اب وہ غزہ کی پٹی کے انتظام کی ذمہ دار نہیں رہی، تاکہ قابض قوتوں کے لیے کسی بھی بہانے کو ختم کیا جا سکے جو اب بھی جارحیت اور تباہ کن جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
