خضدار شمس بلوچ کے جبری گمشدگی کو 16 سال مکمل ،بوڑھی ماں کو اب بھی امید ہے بیٹا بازیاب ہوگا

 

خضدار ( نامہ نگار) ایک ماں جو 16سالوں سے ایک ایسی تکلیف برداشت کر رہی ہےجو ناقابل برداشت ہے ایک ماں جو 16سالوں سے ایک ہی فریاد کر رہی ہے کہ میرا بیٹا جسے اس ماں نے نو مہنے پیٹ میں رکھاہر تکلیف برداشت کیا راتوں کو جاگ کر اس کو بڑھاکیا خود بھوک برداشت کر کےاسےتعلیم دی کہ وہ بڑھاپے میں اسکاسہارہ بنےگاجب وہ بڑا ہواتو اس ریاست نےاس سے وہ سہارہ چھین لیا اسے ایک ایسے تکلیف میں مبتلاکیا کہ جو کسی بھی صورت کم نہیں ہوسکتا۔
شمائلہ بلوچ کا کہنا ہے میرے ماموں شمس بلوچ جنہیں1جولائی 2010 میں FC نے میاں غنڈی چیک پوسٹ کوئٹہ سےجبری طور پر اپنے ساتھ لے گۓ تھےآج انہیں 16سال مکمل ہوگۓ لیکن وہ منظرعام پر نہیں آۓ۔
انھوں نے کہاہے کہ ثبوت وہاں مانے جاتے ہیں جہاں انصاف ہو انصاف وہاں دی جاتی ہے جہاں عدالتیں ہو ظالم جابر کو وہاں کٹھرے میں کھڑاکیا جاتاہے جہاں جمہوری نظام ہو یہاں انصاف تو کیا اپنے ہی پیاروں کے لیۓ جنہیں یہ ریاست خودتسلیم بھی کررہی ہے کہ انکے پاس ہے انکے لیۓ سوال کرنے پر مختلف ہاراسمنٹ کے طریقے استعمال کرکے ہمیں خاموش کیاجاتاہے۔
سیاسی سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس ریاست نے بلوچستان کے ہر دوسرے گھر کو ایک ایسی تکلیف میں مبتلا کر چکے ہیں جو ہر دن بڑھتا رہتا ہے اور اس ریاست کے پاس اس مسئلے کا ہر حل موجود ہے کبھی پروپیکنڈہ کہنا کبھی ایک ماں کے آنسوؤں کو ڈراما کہنا تو کبھی مسلح تنظیموں کے ساتھ جوڑناتو کبھی اس خاندان کو کچھ آفر کرنا کبھی انکی مسخ شدہ لاش پھنک دینا جو صرف نفرت کو جنم دیتی ہے لیکن اسکے پاس یہ حل نہیں کہ اگر انہوں نے کچھ کیا بھی ہے تو اپنے ہی عدالتوں کو عزت دے کر اپنےہی بناۓ ہوۓ جیلوں میں انہیں قانونی طور پر سزا دیں۔
آپ کو علم ہے
معروف سیاسی و سماجی شخصیت خضدار کے سابق تحصیل ناظم شمس بلوچ کی جبری گمشدگی کو 16 سال مکمل ہو گئے۔ انہیں یکم جولائی 2010 کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا اور تاحال ان کا کوئی اتا پتا نہیں ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post