کوئٹہ ہنہ اڑک طالبان کے نام پر فوج کی دہشت جاری 13 افراد قتل ،عوام کا احتجاج جاری ،امن کمیٹیاں ہی قتل کے ذمہدار ہیں مظاہرین ، ایئرپورٹ روڈ بدستور بند


 کوئٹہ ( نامہ نگار )

ہنہ اُڑک میں حالات کی کشیدگی برقرار ہے آج بھی علاقے کے مقامی لوگوں نے بی اے مال کے سامنے احتجاجاً روڈ بند کر رکھا ہے.
اطلاعات ہیں کہ گزشتہ رات کے جھڑپوں میں چار مقامی افراد نقیب اللہ، اشرف خان، داؤد خان اور گلریز خان جان کی بازی ہار گئے ہیں جب کہ تقریباً آٹھ افراد زخمی ہیں.
جبکہ تازہ غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ مغوی 9 افراد کو  فورسز (عرف اچھے طالبان)
نے قتل کردیا ہے ۔

مظاہرین نے انکشاف کیا ہے کہ کوئٹہ کے آس پاس کے مزکورہ  علاقوں میں کوئی بی ایل اے نہیں ہے یہ کرنل ہاشم اور خالد بٹ کے لوگ ہیں اور نام بی ایل اے رکھا ہوا ہے آج جیسے ہی عوام انکے خلاف نکلے ہیں تو سب سے پہلےہمارے آستین کے سانپ فورسز کے کہنے پر عوام کا خاموش رہنے کی دھمکی دے رہے ہیں ۔
انھوں نے کہاکہ ہنہ اوڑک جیسے پر فضا مقام پر فام ہاوسنگ سوسائٹی کا قیام کافی منافع بخش کاروبارہے۔ جو ڈی ایچ اے اور بی اے مال کے ساتھ ٹی ٹی پی شراکت داری پر شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

انھوں نے انکشاف کیا کہ ہمیں یہ بات آج تک سمجھ میں نہیں آئی کہ ہمارے سیکورٹی اداروں کو کہیں 100 کلومیٹر دور افغانستان میں دہشت گردوں ٹی ٹی پی اور دیگر مصلح تنظیموں کے ٹھکانے نظر آتے ہیں اور وہ اپنے اندر یہ صلاحیت جانتے ہیں کہ ہم ان کو یہاں سے بقول ایٹلیجنس اداروں کے نشانہ بنا رہے ہیں لیکن ان کو اپنے ملک میں اپنے چیک پوسٹوں سے پانچ پانچ  کلو میٹر کے فاصلے پر دہشت گردوں کے ٹھکانے نظر کیوں نہیں آتے ان کی آنکھوں پہ پٹیاں کیوں بندھی ہوئی ہیں اس لیے ہم کہتے ہیں کہ دال میں کچھ کچھ کالا نہیں ہے بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔
یہ کیسامنطق ہے کوئٹہ کینٹ اسٹاف کالج کے پیچھے واقع ہنہ اوڑک کے ابادی پر ٹی ٹی پی کے نام پر دہشت گرد حملے دہشت گردوں کا مطالبہ ہے کہ یہ زمینیں خالی کرو پہلی بار سنا اور دیکھا ہے کہ ٹی ٹی پی والے زمینوں کے لیے لڑ رہیں ہیں

سوشل میڈیا پر ایک صارف نے لکھا ہے کہ شعبان (زرغوں ) 2 سال سے TTP اور BLA کے نام سے بند ، گیس اور دوسرے معدنیات سے ملا مال ، ہانہ ورک والے زمیں DHA پے نہی بچ رہے ، سپین کاریز کا DHA نے الاٹمنٹ لے لی ، منگلہ حسی طرح خالی کروا دیا ، اب بی اگر سمج نہیں آئی  تو کیا کریں۔
کوئی تیتپی نہیں ہے یہ خالد بٹ کے دھاڑی مار ہیں جو ہنہ اوڑک پر پنجاپی کا قبضہ کرنا چاہتے ہیں
ایک اور صارف نے کہاہے کہ کمپنی 3000 ہزار ارب لے کر بھی خود تو لڑ نہیں سکتی۔ اوڑک کے مقامی قبائل کو مسلح کیا گیا۔ لڑائی ہوئی تو قبائل کو ہی لاشیں اٹھانی پڑی۔ بلوچستان سے لے خیبر تک عوام کو ہی امن کمیٹی کے نام پر مسلح کر کے لڑایا جارہا ہے۔ نقصان عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ کمپنی تماشا دیکھ رہی ہے۔ عوام کو خود ہوش کے ناخن لینا چاہئے۔ کمپنی نے نیا پلان یہی بنایا ہے کہ امن کمیٹیوں کے نام پر اب پشتونوں کو پشتونوں سے لڑاؤ اور بلوچوں کو بلوچوں سے لڑاؤ اور خود حکمرانی کرتے رہے۔۔

Post a Comment

Previous Post Next Post