پارلیمانی سیاست کرنے والوں سے سوال کریں تو قومی تحریک والے خوش ہوتے ہیں۔ مگر خود قومی تحریک پر کوئی سوال اٹھانے کی کوئی اجازت نہیں۔ حامد میر کےقلم سے


سرکار پر تنقید کریں تو سردار اور اس کے چاہنے والے خوش ہوتے ہیں۔ سردار پر تنقید کریں تو سرکار خوش ہوتی ہے۔

ڈکٹیٹرشپ کو برابھلا کہیں تو جمہوریت والے خوش ہوتے ہیں۔ جمہوریت والوں پر سوال اٹھائیں تو آمریت والوں کو خوشی ہوئی ہے۔

عقیدے کو کاروبار بنانے پر بحث کریں تو مولوی ناراض ہوتا ہے۔ مولوی پر تنقید سے کامریڈز کو مزا آتا ہے۔ نظریے کے جبر پر بات کریں تو کامریڈز برا مان جاتے ہیں۔

قوم پرستوں کے شاؤنزم کو ننگا کریں تو ہم سرخے کہلاتے ہیں۔ اپنے وطن کی بات کریں تو سرخے ہمیں قوم پرست بنا دیتے ہیں۔

پارلیمانی سیاست کرنے والوں سے سوال کریں تو قومی تحریک والے خوش ہوتے ہیں۔ مگر خود قومی تحریک پر کوئی سوال اٹھانے کی کوئی اجازت نہیں۔

برسوں پہلے جب میں "ایکسپریس" اخبار میں کالم لکھا کرتا تھا تو انہی رویوں پر ایک مضمون لکھا تو اس کا عنوان رکھا تھا: "اپنے بھی خفا مجھ سے، بیگانے بھی ناخوش!"

تجربے نے مگر یہ سکھایا کہ عوام سے جڑت رکھنے والے لکھاری کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس سے کسی طاقت ور کو، اور اس کے چاہنے والوں کو خوش نہیں ہونا چاہیے۔

شکر ہے کبھی کوئی زور آور ہم سے خوش نہ ہوا۔

فراز صاحب کی معروف نظم "محاصرہ" کے اخری بند یاد آتے ہیں:

مرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
مرا قلم تو عدالت مرے ضمیر کی ہے
اسی لیے تو جو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا
جبھی تو لوچ کماں کا، زبان تیر کی ہے

میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں، یقیں ہے مجھے
کہ یہ حصارِ ستم کوئی تو گرائے گا
تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم
مرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post