پٹ فیڈر کینال کے ٹیل علاقے جہاں پانی کا پہنچنا محض ایک انتظامی عمل نہیں بلکہ زندگی اور موت کے درمیان ایک لکیر ہے ۔بیان



جعفرآباد ( پریس ریلیز ) جعفرآباد علاقہ مکینوں نے جاری بیان میں  کہا ہے کہ جعفرآباد زمین ہمیشہ سے محنت پانی اور فصل کے رشتے سے پہچانی جاتی رہی ہے یہاں کی مٹی نے صدیوں سے کسان کے پسینے کو اپنی بانہوں میں سمیٹ کر رزق کی صورت دی ہے مگر یہی زمین آج اپنے آخری سِروں پر ایک ایسے سوال سے دوچار ہے جس کا جواب کہیں فائلوں میں دب گیا ہے اور کہیں ترجیحات کی گرد میں کھو گیا ہے۔
پٹ فیڈر کینال کے ٹیل علاقے جہاں پانی کا پہنچنا محض ایک انتظامی عمل نہیں بلکہ زندگی اور موت کے درمیان ایک لکیر ہے وہاں صورتحال دن بہ دن بگڑتی جا رہی ہے۔ زمینیں بنجر ہوچکی ہیں اور کسان اپنی محنت کے انجام کو بے بسی کی نگاہ سے دیکھنے پر مجبور ہیں یہ کوئی ایک موسم کی کہانی نہیں یہ ایک مسلسل زخم ہے جو ہر سال گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ اصل المیہ صرف پانی کی کمی نہیں بلکہ اس کمی کے اندر چھپی ہوئی ناہمواری ہے جب ایک ہی نہر سے جڑے ہوئے کچھ علاقے سیراب رہتے ہیں اور کچھ ٹیل کے علاقے پیاسے رہ جاتے ہیں تو سوال صرف وسائل کا نہیں رہتا نظامِ تقسیم کا بن جاتا ہے۔ کسان کے لیے یہ فرق محض فاصلے کا نہیں بلکہ انصاف اور محرومی کا فرق ہے۔ اسی محرومی نے اب زرعی زندگی کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا ہے کئی علاقوں میں پینے کے پانی کی قلت نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے جو مسئلہ کھیتوں سے شروع ہوا تھا وہ اب گھروں کی دہلیز تک آ پہنچا ہے یہ وہ لمحہ ہے جہاں مسئلہ صرف زرعی نہیں رہتا بلکہ اجتماعی انسانی بقا کا سوال بن جاتا ہے۔
مقامی سطح پر یہ احساس بھی گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ پانی کی تقسیم کا نظام مکمل طور پر شفاف اور مساوی نہیں رہا جہاں فیصلوں میں توازن کمزور پڑ جائے وہاں بداعتمادی جنم لیتی ہے اور بداعتمادی جب اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھا دے تو مسائل صرف انتظامی نہیں رہتے سماجی بن جاتے ہیں۔ ٹیل کے کسانوں کا دکھ صرف پانی کی کمی نہیں بلکہ اس احساس کا ہے کہ ان کی باری اکثر مؤخر ہو جاتی ہے۔ زرعی معیشت میں پانی کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی جیسی ہے جب یہ ریڑھ کمزور پڑ جائے تو پوری معیشت جھکنے لگتی ہے۔ لاکھوں ایکڑ زمین کا غیر آباد ہونا صرف پیداوار کا نقصان نہیں بلکہ روزگار ہجرت اور غربت کی نئی داستانوں کا آغاز ہے۔ یہ وہ خاموش بحران ہے جو اعداد و شمار میں کم اور زندگیوں میں زیادہ نظر آتا ہے۔
اس صورتحال میں ضرورت کسی وقتی ردعمل کی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ مربوط اور شفاف پالیسی کی ہے۔ پانی کی تقسیم کو محض روایتی نظام سے نکال کر جدید نگرانی پر مبنی اور منصفانہ اصولوں کے تحت استوار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ ٹیل کے علاقوں کو محض آخری حصہ سمجھنے کے بجائے نظام کا اتنا ہی اہم جزو تسلیم کرنا ہوگا جتنا اوپری علاقے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مسئلہ صرف محکمہ جاتی نہیں رہا یہ ایک اجتماعی ذمہ داری بن چکا ہے۔ مقامی سطح پر کسانوں انتظامیہ اور پالیسی سازوں کے درمیان مسلسل رابطہ اور اعتماد کی بحالی کے بغیر کوئی اصلاح دیرپا نہیں ہو سکتی۔
جعفرآباد کا کسان آج کسی بڑے نعرے سے زیادہ ایک قطرہ پانی کا طلبگار ہے اور شاید یہی وہ سادہ سی خواہش ہے جس پر اگر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو نہ صرف زمینیں پھر سے ہری ہو سکتی ہیں بلکہ اعتماد کی وہ فصل بھی اگ سکتی ہے جو برسوں سے اجڑتی جا رہی ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post