کوئٹہ ( نامہ نگار ) کوئٹہ ہدہ جیل میں فیس لیس ٹرائل کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کا دھرنا چھٹے روز بھی جاری ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ احتجاج عدالتی کارروائی کے اس طریقہ کار کے خلاف ہے جسے وہ غیر شفاف اور غیر آئینی قرار دیتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، پانچ روز قبل BYC کے رہنماؤں نے فیس لیس کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے جیل کے اندر ہی احتجاجی دھرنا شروع کیا تھا، جو اب چھٹے روز میں داخل ہو چکا ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ اوپن کورٹ ٹرائل بنیادی قانونی اور آئینی حق ہے، اور اس سے انکار شفاف انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔
تنظیم کی جانب سے اس احتجاج کے ساتھ ساتھ تین روزہ آن لائن مہم بھی چلائی گئی، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، بشمول سیاسی کارکنان، طلبہ، وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے شرکت کی۔
ماہ رنگ بلوچ کی بہن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ چھ دن گزرنے کے باوجود جیل کے اندر موجود رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان کے مطابق قید افراد شدید گرمی اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باوجود اپنے قانونی حق کے لیے پرامن احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فیس لیس ٹرائل شفاف انصاف کے اصولوں کے منافی ہے کیونکہ اس میں ملزمان کو اپنے دفاع اور عوامی نگرانی کے تحت عدالتی کارروائی کے حق سے محروم کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق خاندانوں کو اپنے عزیزوں تک رسائی نہ ملنے سے تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے مطالبہ کیا ہے کہ فیس لیس ٹرائل کے عمل کو ختم کیا جائے اور اوپن کورٹ ٹرائل کو یقینی بنایا جائے۔ تنظیم نے انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلاء، صحافیوں اور عام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے پر آواز بلند کریں۔
