کوئٹہ( نامہ نگار ) بلوچستان یونین آف جرنلسٹس (بی یو جے) کے زیر اہتمام نجی ٹی وی چینلز کے دفاتر کی بندش اور صحافیوں و میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیوں کے خلاف بلوچستان اسمبلی کے مین گیٹ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ بی یو جے کے صدر منظور احمد کی قیادت میں صحافیوں نے اسمبلی اجلاس کی کوریج کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔
مظاہرین نے بلوچستان میں نجی چینلز کے دفاتر کی بندش اور میڈیا کارکنوں کی برطرفیوں کے خلاف شدید احتجاج کیا اور فوری طور پر دفاتر کی بحالی اور متاثرہ ملازمین کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
دریں اثنا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی پر مشتمل پارلیمانی وفد مظاہرین سے مذاکرات کے لیے پہنچا۔ وفد میں صوبائی وزراء ظہور احمد بلیدی، علی مدد جتک اور رحمت صالح بلوچ شامل تھے۔
پارلیمانی وفد نے صحافیوں کو مکمل حمایت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ان کے مطالبات اور آواز کو نہ صرف بلوچستان اسمبلی بلکہ وفاقی حکومت تک بھی پہنچایا جائے گا۔ وفد کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن سمیت بلوچستان کی تمام سیاسی جماعتیں صحافیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ صوبائی وزراء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ میڈیا مالکان بلوچستان میں بند کیے گئے دفاتر کو بحال کریں۔
صوبائی وزراء اور پارلیمانی وفد کی یقین دہانیوں کے بعد بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے اپنا احتجاج اور اسمبلی اجلاس کی کوریج کے بائیکاٹ کا فیصلہ ختم کر دیا۔
