آواران میں دوہفتہ سے سخت ترین کرفیو نافذ، مکین فوجی گھیراؤ میں محصور ہیں۔ترجمان بی این ایم



آواران ( پریس ریلیز )بلوچ نیشنل موومنٹ کے ترجمان نے جاری پریس ریز میں کہا ہے کہ بلوچستان کے ضلع آواران کے علاقے مشکے میں گذشتہ دو ہفتوں سے سخت ترین کرفیو جاری ہے۔
بی این ایم کے مطابق مشکے میں بازار، دکانیں، ہسپتال اور تعلیمی ادارے بند ہیں اور مکین فوجی حصار میں اپنے گھروں تک محدود ہیں، لوگ اپنے کھیتوں، باغات اور دیگر روز مرہ کے کاموں کے لیے نہیں نکل سکتے۔
ترجمان نے کہا ہےکہ گجر اور دیگر چھوٹے بازاروں کو فوج اپنی نگرانی میں کبھی کبھار دن میں صرف ایک گھنٹے کے لیے کھولنے کی اجازت دیتی ہے، اس محدود وقت سے صرف قریبی آبادیوں کے لوگ اشیائے خورد و نوش خریدنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں، جبکہ دور دراز دیہاتوں کے باشندے اس سہولت سے محروم رہتے ہیں اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہاہے کہ اس عید کے موقع پر بھی فوج نے مکینوں کو عیدی اور دیگر ضروری خریداری کے لیے گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں دی سخت پابندیوں کے باعث بیشتر خاندان عیدالاضحیٰ پر قربانی کرنے سے بھی محروم رہے۔
پاکستانی فوج چھوٹے شہروں اور پورے پورے دیہات کے مکینوں کو صبح کے وقت فوجی کیمپ میں طلب کرتی ہے اور شام تک انہیں وہاں روکے رکھتی ہے، جہاں ان پر ذہنی اور جسمانی تشدد کی جاتی ہے۔
ترجمان نے کہا ہے کہ گزشتہ سال صرف مشکے میں بیس سے زائد لوگوں کو پاکستانی فوج نے کیمپ بلاکر یا حراست میں لے کر تشدد کے ذریعے قتل کردیا ہے، اس سال بھی متعدد مکین گرفتاری کے بعد قتل کیے جاچکے ہیں۔
بی این ایم  نے مزید الزام لگایا ہے کہ  پاکستانی ریاست کی درندگی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ مشکے مکینوں کو گرفتار کرنے اور قتل کرنے کے بعد ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی جاتی ہے، اور بعض مواقع پر شواہد مٹانے اور خوف پھیلانے کے لیے لاشوں کو جلا دیا جاتا ہے۔
ترجمان نے بیان کے آخر میں کہا ہے کہ بلوچ نیشنل موومنٹ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو خبردار کرتی ہے کہ وہ مشکے سمیت بلوچستان کے متعدد علاقوں میں غیر اعلانیہ کرفیو پر نوٹس نہیں لیا گیا تو یہاں جاری انسانی بحران میں مزید اضافہ ہوگا۔
ہم بلوچ سیاسی و انسانی حقوق سے وابستہ کارکنوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہیش ٹیگ مشکے انڈر سیج ( #MashkaiUnderSiege) کے ہیش ٹیگ سے مشکے کے بحرانی صورت حال پر سوشل میں آواز اٹھاکر اسے اجاگر کرنے میں مدد کریں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post