سردار نصیر موسیانی اور اہلخانہ کی گرفتاری جمہوری سیاست پر حملہ ہے، بی این پی کا بلوچستان بھر میں احتجاج کا اعلان ۔پریس کانفرنس

 


کوئٹہ ( نمائندہ خصوصی ،ویب ڈیسک )
بلوچستان نیشنل پارٹی بی این پی مینگل کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ کا پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ زہری میں پارٹی رہنما کے گھر پر چھاپے اور گرفتاری کے خلاف کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ فورسز کی جانب سے پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق ناظم خضدار سردار نصیراحمد موسیانی کے گھر پر چھاپے اور ان کی اور ان کے بیٹے میر زہری خان، میر خلیل احمد کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں ،اور  اسے پارٹی قیادت کو بلوچستان میں جاری ظلم کے خلاف آواز اٹھانے سے روکنے کے لیے کٹھ پتلی حکومت کا شرمناک اقدام قرار دیتے ہیں ۔
ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ آج صبح ضلع خضدار کے علاقے بلبل زہری میں آزادی پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان مسلح جھڑپ ہوئی۔ جھڑپ کے بعد، دس سے بارہ گاڑیوں پر مشتمل فورسز بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن، سابق ڈسٹرکٹ ناظم خضدار اور موسیانی قبیلے کے چیف سردار نصیر احمد موسیانی کے گھر پر پہنچیں۔ وہاں سے سردار نصیر احمد موسیانی، ان کے دونوں فرزندان میر زہری خان موسیانی اور میر خلیل احمد موسیانی کے علاوہ کئی دیگر عزیز و اقارب کو اٹھا کر بلبل کراس کے اسکول میں بند کر دیا ۔
انہوں نے کہاکہ بلوچستان نیشنل پارٹی اپنے قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں ہر قسم کے جبر اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف اپنی سیاسی، جمہوری اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔ بلوچستان کے عوام کے حقوق، عزت اور شناخت کا تحفظ ہماری سیاسی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری سے ہم کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔
انہوں نے پریس کانفرنس میں کہاکہ بکتر بند گاڑیوں اور دیگر سیکورٹی گاڑیوں کے ساتھ جب سردار نصیراحمد موسیانی کے گھر فورسز پہنچے تو انہوں وہاں سردار نصیراحمد کو کسی میجر نے دھکہ دیا، جسکی وجہ سے وہ گر کر زخمی ہوئے۔
اسی دوران میر زہری خان کو زد کوب کیا گیا، جبکہ میر خلیل احمد کو گولی مار کر شدید زخمی کردیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ جب یہ اطلاعات علاقے میں پھیلیں تو خواتین، قبائلی عمائدین اور عوام اسکول کے سامنے احتجاج کے لیے نکلے۔ لیکن جتنے بھی قبائلی عمائدین اور مرد حضرات احتجاج کی غرض سے وہاں پہنچے، انہیں بھی اسی اسکول میں بند کر دیا گیا۔ اس وقت صرف علاقے کی خواتین باہر کھڑی احتجاج کر رہی ہیں۔
ترین نے کہاکہ کٹھ پتلی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے بلوچستان میں نفرت روز بروز بڑھ رہی ہے۔
مزید کہاکہ گزشتہ ایک سال سے زہری کے عوام اذیت اور کرفیو کا سامنا کر رہے ہیں، زہری کے عام لوگوں کو اس کام کی سزا دی جاتی ہے جو انہوں نے نہیں کیا۔
بی این پی نے ہر موقع پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس مسئلے کا حل طاقت نہیں بلکہ سیاسی مکالمہ، انصاف اور عوامی اعتماد کی بحالی ہے۔ آج کا واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ بدقسمتی سے ابھی تک اس سوچ کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
بلوچستان نیشنل پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ سردار نصیر احمد موسیانی، میر زہری خان موسیانی، میر خلیل احمد موسیانی، تمام گرفتار عزیز و اقارب اور احتجاج کرنے گئے تمام قبائلی عمائدین اور شہریوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ اگر کسی پر کوئی قانونی الزام ہے تو انہیں آئین اور قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، نہ کہ اسکولوں کو حراستی مراکز میں تبدیل کر کے وہاں بند رکھا جائے۔ ان تمام افراد کے اہل خانہ اور قانونی نمائندوں کو فوری رسائی دی جائے۔ بلبل زہری میں ہیلی کاپٹر شیلنگ اور فائرنگ کے واقعات کی شفاف تحقیقات کی جائے۔ اسکول اور اسپتال کو فوری طور پر خالی کیا جائے کیونکہ یہ عوامی ضرورت کے مقامات ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم بلوچستان کے عوام، ملک کی تمام جمہوریت پسند سیاسی قوتوں، وکلاء برادری، صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس صورتحال پر اپنی آواز بلند کریں۔
بلوچستان نیشنل پارٹی واضح کرنا چاہتی ہے کہ سردار نصیر احمد موسیانی کوئی غیر معروف یا متنازع شخصیت نہیں ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ جمہوری اور آئینی راستہ اختیار کیا، انتخابات میں حصہ لیا اور اپنے عوام کی نمائندگی سیاسی پلیٹ فارم سے کی۔ ان کے خلاف اس طرح کا اقدام نہ صرف ان کی ذات کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ بلوچستان میں جمہوری سیاست کے وجود پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔
آخر میں کہاکہ بی این پی 4 جون جمعرات کو صوبہ بھر میں تمام پریس کلبوں کے سامنے احتجاج کا اعلان کرتی ہیں اور پارٹی آئندہ کے فیصلے کے لیے کل ایک میٹنگ کرے گی۔

Post a Comment

Previous Post Next Post