کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خضدار کی رہائشی سلمیٰ بی بی نے کہا کہ کہ ان کے بھائی عبدالنبی اور بہنوئی کو نواب ثناء اللہ کے نائب شعیب اور اسکے ساتھیوں نئ الگ الگ واقعات میں قتل کیا ، انہوں نے کہا کہ پریس کانفرنس کے ذریعے خاندان پہلے بھی جان کے خطرات سے آگاہ کر چکا تھا مگر تحفظ فراہم نہیں کیا گیا۔
انھوں نے کہاکہ شروع میں ہمیں ہمارے گھروں سے بے دخل زمینوں پر قبضہ کیا گیا ،مگر نواب ثناء اللہ خان خاموش رہے ،انھوں نے کہاکہ انکے مزکورہ کارندے کھلے عام دہشت پھیلاتے ہیں انتظامیہ پولیس ،لیویز ،ایف سی سب خاموش تماشی بنے بیٹھے ہیں ۔
متاثرہ خاندان نے شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور فوری تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان سے نوٹس لینے کی اپیل کی اور کہاکہ مقتول بہنوئی ئے یہ چھوٹے بچے ہیں ان کی کفالت کون کریگا
پریس کانفرنس کا مکمل متن
میں سلمی ولد حاجی غلام نبی کی بیٹی یہ پریس کانفرس کر ہی ہوں کہ سردار ثناءاللہ دوسرے بار ہمارے ساتھ یہ واقع ہوا ہے اپ کہ نائبوں نے ہمارے سارے گھر کو تباہ کیا اس سے پہلے مارچ کے 12 کو میرے بھائی کو مارا پھر جون 15 کو عبدالستار پتی ماند کا بیٹے کو شہید کیا آپ کے لوگوں نے پھر جون کے 1 تاریخ کو جمعہ کے بیٹے خالوں نے ایک بندہ کو اٹھایا اس کو انجیرہ لے کے گیا سردار کے پاس جس کو وہاں پر ظلم تشدد کیا پھر اس کے بھائی گا مڑ کے بیٹے حمید کو فون کیا اور کہا کے عبدالستار کو فون کروں بولوں کے جب تک انجیرہ خود نہیں او گئے ہم منظور کو نہیں چھوڑنگے پھر عبدالستار نے کہا کہ میں انجیرہ کیوں اجاوں میرے اس مسلہ سے کوئی تعلق نہیں ہے ان کے بعد تین دن تک عبدالستار کے پیچے پڑھتے اور خضدار کمپلکس روڈ پر عبدالستار ا گھر ہے پھر عبدالستار اپنے گھر جلدی جلدی ایا پھر سردار کے لوگوں نے اس کے پیچے عبدالستار کے گھر دس لوگ اگئے جس میں سے ایک کو ہم نے پہچان لیا جس کا نام نائب شعیب تھا پھر عبدالستار نے اپنی کھڑ کی سے دیکھا کے انجیرہ کے لوگ آئے ہے تو وہ لوگوں گاڑی سے اگر گھر میں جانکے چلئے گئے اور اگئے جا کر اپنی گاڑیوں کو چھو پا لیا پھر عبد الستار جلدی جلدی میں اپنے گھر سے گاڑی نکال کر نزدیک ہوٹل چلا گیا اس ہوٹل میں SHO پندرانی کو
بیٹا وہاں موجود تھا عبدالستار اور SHO پندرانی کا بیٹا دونوں ایک کمرے میں بھٹے تھے پھر اچانک سرا در شناء کے بندہ نائب شعیب نے اگر عبدالستار اور SHO پندرانی کے بیٹے پر فارنگ کیا جس سے عبدالستار اور SHO پندرانی کا بیٹا دونوں موقع پر ہی شہید ہو گئے
لہذا ہمارے بیان پر رد عمل کیا جائے اور ہم کو انصاف دیا جائے اور ہمارے ساتھ اس نا انصافی کو روکا جائے
۔
