خاتون ڈاکٹر کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ ہماری روایات، بلوچستان کی اجتماعی غیرت پر ہواہے ۔اختر مینگل

 


کوئٹہ( نمائندہ خصوصی ) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اخترجان مینگل نے سوشل میڈیا ایکس پر جاری بیان میں کہاہے کہ گزشتہ روز ایک خاتون ڈاکٹر کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ ہماری روایات، ہماری اقدار اور بلوچستان کی اجتماعی غیرت پر حملہ ہے۔ یہ اس سرزمین کی روح کے خلاف ہے جہاں عورت کو عزت، وقار اور احترام کا سب سے بلند مقام حاصل رہا ہے۔
انھوں نے کہاہے کہ آج ہم ایک ایسے دور کے گواہ ہیں جو ہمارے لیے باعثِ شرم ہے۔ ہم خاموش بیٹھے ہیں جبکہ ہماری بیٹیاں ہسپتالوں میں نشانہ بنائی جا رہی ہیں، انہیں اٹھایا جا رہا ہے، قید کیا جا رہا ہے اور ہراساں کیا جا رہا ہے۔ یہ سب اُس دھرتی پر ہو رہا ہے جہاں کبھی عورت کی حرمت ہر شے سے بڑھ کر سمجھی جاتی تھی۔ یہ دیکھنا روح کو زخمی کر دیتا ہے کہ ہم بحیثیتِ معاشرہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں۔
بی این پی رہنماء نےلکھا ہے کہ بلوچستان وہ سرزمین ہے جہاں عورت صرف عزت کی علامت نہیں بلکہ قیادت، ہمت اور شعور کی نمائندہ بھی رہی ہے۔ جو لوگ پسماندہ، تنگ نظر اور فرسودہ سوچ کے ذریعے باعزت اور کامیاب خواتین کو بدنام کرنے، دبانے یا ان کی آواز خاموش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں جان لینا چاہیے کہ وہ صرف ایک عورت نہیں بلکہ پورے معاشرے کی بنیادوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
سردار مینگل نے بیان  میں  کہاہے کہ
کسی بھی عورت کی عزت، ساکھ اور کامیابی پر حملہ دراصل ہماری اجتماعی اقدار پر حملہ ہے۔ ایسے رویوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ خواتین کا احترام کوئی انتخاب نہیں، بلکہ ایک اصول ہے جسے ہر حال میں برقرار رکھنا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہاہے کہ ہم متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ذمہ دار عناصر کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ سردار اختر جان نے آخر میں کہاہے کہ خاموشی اب جرم بن چکی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی روایات، اپنی غیرت اور اپنی بیٹیوں کے وقار کے دفاع کے لیے یک آواز ہو جائی!!

Post a Comment

Previous Post Next Post