ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کے جیل کے اندر خفیہ ٹرائل غیرآئینی ہے،وکلا کی ہنگامی پریس کانفرنس خطاب

 


کوئٹہ (نامہ نگار)

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے زیرِ حراست رہنماؤں، بشمول

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی لیگل ٹیم (وکلاء) نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کا انعقاد کیا ہے۔

پریس کانفرنس میں وکلاء نے گرفتار بلوچ رہنماؤں کے خلاف جاری قانونی کارروائیوں، اوپن کورٹ (کھلی عدالت) کی سماعتوں کو اچانک جیل ٹرائل اور پھر ‘خفیہ و بے چہرہ کارروائیوں’ (Faceless Proceedings) میں تبدیل کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
لیگل ٹیم نے میڈیا کو بتایا کہ مروجہ قانونی طریقہ کار کو پسِ پشت ڈال کر اوپن کورٹ کے بجائے جیل کے اندر خفیہ ٹرائل شروع کر دیا گیا ہے، جو آئینی تقاضوں کے منافی ہے۔
وکلاء کے مطابق بی وائی سی رہنماؤں کو بلاجواز طویل عرصے تک حراست میں رکھا جا رہا ہے۔ جس طرح کیس کو اوپن کورٹ سے جیل منتقل کیا گیا، اس سے عدالتی غیر جانبداری (Judicial Impartiality) شدید متاثر ہو رہی ہے۔ عدالتی عمل تک عوام اور میڈیا کی رسائی کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے، جو کہ انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
وکلاء نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ "جیل کے اندر جاری اس ‘بے چہرہ اور خفیہ ٹرائل’ (Faceless Trials) کے خلاف ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر لاپتہ و گرفتار رہنماؤں نے جیل انتظامیہ کے سامنے ہی احتجاجاً دھرنا (Sit-in Protest) شروع کر دیا ہے۔
رہنماؤں اور ان کی لیگل ٹیم کا کڑا موقف ہے کہ ان کے کیسز کی سماعت آئینی ضمانتوں، شفافیت کے اصولوں اور ‘فیئر ٹرائل’ (حقِ منصفانہ سماعت) کے تحت صرف اور صرف کھلی عدالت (Open Court) میں ہونی چاہیے۔
پریس کانفرنس کے دوران وکلاء نے آئینِ پاکستان اور انسانی حقوق کے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے حکام سے درج ذیل ہنگامی مطالبات کیے:
رہنماؤں کے خلاف تمام مقدمات کا خفیہ ٹرائل فوری ختم کر کے کھلی عدالت میں پبلک کے سامنے سماعتیں بحال کی جائیں۔
شہریوں کو حاصل منصفانہ اور عوامی ٹرائل (Fair and Public Trial) کے آئینی حق کا احترام کیا جائے۔
انتظامیہ اور مقتدر حلقے قانونی عمل میں مکمل شفافیت، مروجہ طریقہ کار (Due Process) اور عدالتی احتساب کو یقینی بنائیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ عدالتی کارروائیوں کو خفیہ رکھنا اس بات کی ثبوت ہے کہ رہنماؤں کے خلاف ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں اور انہیں صرف سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post