کوئٹہ ( نامہ نگار ) بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے ضلع کیچ کے علاقے گومازی میں پاکستانی فورسز کی جانب سے نہتے شہریوں کے گھروں کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کرنے، انہیں آگ لگانے اور املاک لوٹنے کے واقعے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر واقعے کے ٹھوس شواہد شیئر کرتے ہوئے عالمی اداروں سے ہنگامی مداخلت کی اپیل کی ہے۔
چیئرمین بی این ایم کے مطابق، ضلع کیچ کے علاقے گومازی میں حالیہ جابرانہ کارروائی کے دوران مقامی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ کارروائی کے دوران نذیر بلوچ، شیر دل بلوچ، عمر بلوچ، اور تاج محمد بلوچ کے گھروں کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کیا گیا اور بعد میں انہیں آگ لگا کر نذرِ آتش کر دیا گیا۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ نے واضح کیا کہ جائے وقوعہ سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں پاکستانی فوجی وردی میں ملبوس اہلکاروں کو اس جارحیت کی براہِ راست نگرانی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ اہلکار ٹریکٹر ڈرائیور کو گھر گرانے کی ہدایات دے رہے ہیں اور جلتے ہوئے مکانات کے قریب کھڑے ہیں۔
اس کارروائی کے دوران متعدد دیگر گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا اور مختلف مکانات سے شہریوں کا قیمتی سامان اور ذاتی اشیاء اٹھا کر ساتھ لے جائی گئیں۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ نے اپنے بیان میں زور دیا کہ یہ کوئی الگ تھلگ یا واحد واقعہ نہیں ہے۔ "بلوچستان میں سویلین آبادی کے گھروں کو تباہ کرنا اب ایک مستقل اور منظم پیٹرن بن چکا ہے، جہاں خاندانوں کو بلاجواز اس قسم کے جابرانہ اقدامات کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے بلوچستان کے متعدد علاقوں میں منظم ‘اجتماعی سزا’ (Systematic Collective Punishment) کے حصے کے طور پر ایسے ہی واقعات دہرائے جا رہے ہیں۔”
بی این ایم کے چیئرمین نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے اہم سوالات اٹھائے کہ دنیا کو یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ آخر کیوں پورے کے پورے خاندانوں کو اس طرح بے گھر اور شدید ذہنی اذیت (Traumatized) کا شکار کیا جا رہا ہے؟ ان گھروں میں رہنے والی مظلوم خواتین، معصوم بچوں اور بوڑھے بزرگوں نے آخر کیا جرم کیا ہے کہ انہیں اس حالت میں کھلے آسمان تلے چھوڑ دیا گیا؟
بیان کے آخر میں ڈاکٹر نسیم بلوچ نے بین الاقوامی برادری، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ (United Nations) پر زور دیا ہے کہ وہ بلوچستان میں بار بار دہرائے جانے والے ان سنگین واقعات کا فوری نوٹس لیں اور ان کی آزادانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے ہولناک مظالم پر عالمی برادری کی خاموشی صرف مجرموں کے حوصلے بلند کرنے اور مزید انسانی حقوق کی پامالیوں کا سبب بنے گی۔
