بلوچستان 3 نوجوان جبری گمشدگی کا شکار، 2 بازیاب ہوگئے

 


کوئٹہ ( نامہ نگار ) بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جبری گمشدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں تین نوجوانوں کو حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا گیا، جبکہ دو افراد بعد ازاں بازیاب ہو گئے۔
مستونگ سے 18 سالہ ممتاز احمد ولد سلطان احمد، جو رکشہ ڈرائیور بتایا جاتا ہے، کو 8 جون 2026 کو سہ پہر تقریباً 3 بجے چمبلی روڈ سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لیا اور اس کے بعد وہ لاپتہ ہو گیا۔
چاغی کے علاقے دالبندین سے دو طالب علموں کی جبری گمشدگی رپورٹ ہوئی ہے۔ 19 سالہ شکراللہ ولد عبد الخالق نوتیزئی اور 20 سالہ زبیر بلوچ ولد خدا بخش کو 4 جون 2026 کی شام تقریباً 5:30 بجے ایئرپورٹ روڈ دالبندین سے حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیا۔
دوسری جانب کوئٹہ اور پنجگور سے دو افراد کی بازیابی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
کوئٹہ کے علاقے سریاب سے احمد عاقف بلوچ ولد فضل الرحمان کو 11 جون 2026 کو حراست میں لینے کے بعد 12 جون کو بازیاب کیا گیا۔
اسی طرح پنجگور کے علاقے چتکان سے نبیل رحیم ولد رحیم بخش کو 5 جون 2026 کو حراست میں لیے جانے کے بعد 9 جون 2026 کو ایف سی کیمپ سے بازیاب کرایا گیا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post