تربت(پریس یلیز) تربت پریس کلب کے ترجمان نے گدروشیا پوائنٹ کے سینئر کیمرہ مین، بلوچ فلم انڈسٹری کے معروف کیمرہ آرٹسٹ اور نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے) لاہور میں فلم سازی کے طالبعلم محراب خالد بلوچ کی فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی مسلسل گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ محراب خالد بلوچ کو 29 اور 30 مئی کی درمیانی شب لاہورمیں حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا گیا، تاہم چھ دن گزر جانے کے باوجود ان کے متعلق کسی قسم کی کوئی مستند اطلاع سامنے نہیں آسکی، جس کے باعث ان سے متعلق اہل خانہ اورصحافتی حلقوں میں تشویش بڑھتی جارہی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ محراب خالد بلوچ ایک نہایت سنجیدہ، باصلاحیت اور اپنے شعبے سے مخلص نوجوان ہیں جنہوں نے محدود وسائل اور انتہائی مشکلات کے باوجود اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر میڈیا اور فلم سازی کے شعبے میں اپنا مقام بنایا۔ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنی محنت، لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کے باعث نوجوانوں کیلئے مثال سمجھے جاتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ این سی اے لاہور میں داخلہ لینے سے قبل محراب خالد تربت میں بطور پروفیشنل کیمرہ مین سرگرم عمل رہے اور انہوں نے مختلف سماجی، ادبی، ثقافتی اور سیاسی سرگرمیوں کی بھرپور کوریج کرکے عوامی مسائل، نوجوانوں کے ایشوز، ثقافتی سرگرمیوں اور معاشرتی موضوعات کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی فنی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ رویے کو صحافتی اور ادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ترجمان کے مطابق لاہور میں ان کی گمشدگی نے معاشرے کے تمام مکاتب فکر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ محراب خالد ایک انتہائی سادہ، مہذب اور تعلیم دوست نوجوان ہیں اگر ان کے خلاف کسی ادارے یا فرد کو کوئی شکایت یا الزام ہے تو انہیں آئین و قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ ان کے اہل خانہ اور صحافتی وثقافتی حلقوں میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہوسکے۔تربت پریس کلب نے حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ محراب خالد بلوچ کو فوری طور پر بازیاب کرکے منظر عام پر لایا جائے اور ان کے اہل خانہ کو درپیش اذیت و اضطراب کا خاتمہ کیا جائے۔
