آج 15 سالہ نسرینہ بلوچ کو جبری گمشدگی کو تین ماہ مکمل ہوگئے بازیاب کرکے عدالتوں میں پیش کیاجائے ۔اہلخانہ کی اپیل



حب چوکی ( نامہ نگار ) حب چوکی سے پاکستانی فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ 15 سالہ نسرینہ بنت ناکو دلاور  بلوچ کے لواحقین  نے  جاری بیان میں کہاہے کہ ان کی جبری گمشدگی کو تین ماہ مکمل ہوگئے مگر ان کے بارے کوئی معلومات نہیں دیئے جارہے ہیں ۔

انھوں نے افسوس کا اظہار کرکے کہاہے کہ ایک بیمار 15 سالہ نابالغ  بچی کو پولیس ،ایف سی نے  22 نومبر  2025 کی رات بارہ بجے ان کی چچا کی گھر  سے  غیر قانونی اہلخانہ سامنے مارا پیٹا اور جبری لاپتہ کیاگیا، آج انکی جبری گمشدگی کو تین ماہ 4 دن  مکمل ہوگئے  مگر وہ لاپتہ ہے ۔اس دن سے اہلخانہ پر ہر دن رات قیامت چھائی ہوئی ہے ،مگر حکومتی اداروں  کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے کہ ایک نابالغ بیماری  معصوم بچی کی اہلخانہ کس کرب سے گزر رہی ہوں گی ۔

انھوں نے مزید کہاہے کہ ہم نے علاقائی ہر اس میر معتبروں سمیت  ،میڈیا کا دروازہ کھٹکھٹکایا کہ خدارا ہماری مدد کریں اور ایک نابالغ بیماری بچی جس کی علاج چل رہی تھی اس معصوم نے کسی کا کیا بگاڑا تھا جنھیں دہشت گردوں کی طرح ماراپیٹا اور جبری لاپتہ کیاگیا ۔

سنھوں نے آخر میں کہاہے کہ ہم ایک بار پھر ہم حکومت بلوچستان وزیر اعلی سردراز بگٹی ،کورکمانڈر ،فورسز اداروں  حکام بالا ، سیاسی سماجی حلقوں انسانی حقوق کے کارکنان پارٹی تنظیموں علاقائی میر معتبروں  سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بے گناہ  15 سالہ نابالغ بچی نسرینہ کی بازیابی میں اپنا انسانی فرض ادا کرکے انھیں بازیاب کریں ، بازیابی کیلے آواز اٹھائیں کہ انھیں عدالت میں پیش کرکے صفائی کا موقعہ دیں ۔

Post a Comment

Previous Post Next Post