بلوچ راج کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ بلوچ سیاسی و انسانی حقوق کے کارکن ذولفقار بلوچ کو رات ایک بجے کے قریب تونسہ شریف میں ان کے گھر سے اغوا کرنے اور ساتھ ہی ساتھ غازی یونیورسٹی میں زیر تعلیم چار بلوچ طلبہ کو رات 3 بجے ماڈل ٹاؤن ڈیرہ غازی خان سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنانے کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا ہےکہ بلوچ نسل کشی کے خلاف جاری لانگ مارچ کا راستہ روکنے کے لیے ڈیرہ غازی خان اور تونسہ شریف میں بلوچ سیاسی کارکنوں کو حراساں کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب اسی تسلسل میں ٹرائیبل ایریا ڈیرہ غازی خان میں دفعہ 144 نافذ کر دیا گیاہے جو قابل مذمت عمل ہیں ۔
ترجمان نے آخر میں ذوالفقار بلوچ اور طلبہ کی بازیابی کے لیے اپیل کرتے ھوئے کہاہے کہ اس پرامن لانگ مارچ کے خلاف طاقت کا استعمال کرنا غیر آئینی اور غیر جمہوری عمل ہے۔ ہم ڈیرہ جات کے بلوچ عوام اور انسانی حقوق کے کارکنان سے درخواست کرتے ہیں کہ اپنے جمہوری اور آئینی حق کے لیے آواز بلند کریں۔