جمعیت علمائے اسلام کے رہنما کی نجی جیل سے بچی کو 24 گھنٹے میں بازیاب کیاجائے ورنہ شاہراہ بند کریں گے ۔پرہجوم کانفرنس میں اعلان



خضدار پریس کلب میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  میروانی قبائل کے  درجنوں عمائدین نے کہا ہے کہ  گزشتہ چار سال سے جمعیت علماءاسلام کے  رہنما ء  یونس عزیز زہری نے مسماة شازیہ بنت شاہ محمد میروانی کو قید کر رکھا ہے، اس حوالے سے میروانی قبائل کے افراد  واضح کرتے ہیں کہ یہ عمل غیر سیاسی، غیر قبائلی، اور غیر شرعی ہے کہ کسی بچی کو غیر قانونی طور پر اپنے نجی جیل میں رکھا جائے۔  ہم اس جانب تمام سیاسی جماعتوں، حکومت وقت مقتدر حلقوں کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں اور ان سے اپیل کرتے ہیں کہ شازیہ کی بازیابی کے لئے ہمارے ساتھ تعاون کریں۔ 


انھوں نے کہاکہ  ہم نے اس غیر قانونی عمل کے خلاف تھانہ سٹی خضدار کو تحریری درخواست دی ہے کہ شازیہ کے اغوا کے حوالے سے ایف آئی آر کی اندراج کی جائے، لیکن ایس ایچ او تھانہ سٹی نے اس حوالے سے معذرت کی ہے ۔ ہم نے ایس ایس پی خضدار کو درخواست دی لیکن انہوں نے بھی اس حوالے سرد مہری کا مظاہرہ کیا ،اس حوالے سے چیف سیکرٹری بلوچستان، ہوم سیکرٹری بلوچستان آئی جی پولیس بلوچستان، کمشنر قلات ڈویژن، ڈی آئی جی قلات رینج، ڈپٹی کمشنر خضدار سے اپیل کی کہ شازیہ کو بر آمد کرائیں لیکن ہمیں افسوس ہے کہ کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی ۔ 


 ہم نے ملزم  یونس عزیز زہری کو اس مسئلہ کو قبائی رسم و رواج خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لئے پیغام بھیج دیا لیکن انہوں نے ہمیں کوئی مثبت جواب نہیں دیا ہم نے موصوف کے سیاسی رفقا کے ذریعہ بھی ان کو پیغام بھیجا ، لیکن کوئی جواب نہیں آیا ۔


لہذا ہم آج ہم اس پریس کانفرنس کی توسط سے کہنا چاہتے ہیں کہ شازیہ بی بی کو کل بروز اتوار مورخہ10 دسمبر تک کو بر آمد کیا جائے،  بصورت دیگر ہم مین آر سی ڈی روڈ کو غیر معینہ مدت کے لئے بند کردیں گے اور اگر اس حوالہ سے کوئی حادثہ یا نا خوش گوار واقعہ رونما ہوا تو اس کی ذمہ داری ملزم یونس عزیز زہری پر عائد ہوگی۔

Post a Comment

Previous Post Next Post