سرچ آپریشن کے دوران جبری گمشدگی کے شکار محمود شاہ 9 برس مکمل ہونے کے بعد بھی بازیاب نہیں ہوسکا ، خاندان پریشان



خاران کے تحصیل مسکان قلات کے علاقہ حسن آباد کے رہائشی محمود شاہ ولد سلطان شاہ 9 برسوں سے پاکستان کے غیر قانونی اور غیر انسانی عقوبت خانوں میں بند مسلسل ناقابل برداشت اذیتیں سہہ رہا ہے۔ یہ بات  اہلخانہ نے جاری بیان میں کہی ہے ۔


 انھوں نے کہاہے کہ پاکستان کے قابض پیرا ملٹری فورس نے آج کے دن  11 آگست 2014 کو نام نہاد سرچ آپریشن کرکے محمود شاہ کیساتھ دیگر افراد، نجیب حسین زئی اور بابو حسن، کو جبراً لاپتہ کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ تاہم، محمود شاہ کیساتھ جبری گمشدگی کے شکار مذکورہ بالا افراد بعدازاں بازیاب ہوگئے مگر محمود شاہ تاحال پاکستان کے قائم کردہ انسانیت سوز عقوبت خانوں میں ازیتیں سہہ رہا ہے اور جس کے بارے میں لواحقین تاحال بے خبر ہیں  کہ وہ کس حالت میں ہے۔


 انھوں نے کہاہے کہ  محمود شاہ کی 9 سالوں سے جبری گمشدگی کے باعث  اہل خانہ انتہائی پریشان اور نفسیاتی طور پر خوف زدہ ہیں۔


انھوں نے کہاہے کہ  9 سال دوران  ان کی بازیابی کے لیئے حتی الامکان کوششیں کی گئیں ، تمام دروازے  کھٹکھٹائے مگر کسی کے بھی کان پر جوں تک نہ رینگ رہی ہے ۔


 انھوں نے آخر میں تمام مکتب فکر سے منسلک افراد سے عاجزانہ اپیل کی ہے کہ وہ اپنی اخلاقی اور انسانی زمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ان کے پیارے کی باحفاظت بازیابی کیلئے آواز اٹھائیں تاکہ وہ جلد از جلد رہا ہوسکے اور ان کی زندگی سے دکھ، درد اور تکلیف کے شام خوشی اور راحت کے صبح میں بدل جائیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post