کوہلو میں پولیو مہم سیاست کا شکار من پسند اور سرکاری ملازمین کو پولیو ورکرز لگایا جاتاہے حکام نوٹس لیں عوامی حلقے


 بلوچستان ضلع کوہلو میں قومی انسداد پولیو مہم بھی سیاست کا شکار ہوگیا ہے ،عوامی حلقوں کے مطابق ڈی ایچ او اور نو منتخب بلدیاتی نمائندوں کے ملی بھگت سے اپنے من پسند اور سرکاری ملازمین کو پولیو ورکرز لگائے گئے ہیں ۔جس کے باعث کوہلو کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں بچے پولیو قطرے پلانے سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔


 انھوں  نے مقامی صحافی کو بتایا کہ کوہلو کا واحد محکمہ ای پی آئی جو کہ سابقہ  ڈی ایس او  کے زیرنگرانی میں صاف و شفاف طریقے سے اپنے کام کو سر انجام دے  رہا تھا ۔ کے ریٹائرڈ ہونے کے بعد ای پی آئی کو سیاسی مداخلت کے ذریعے یرغمال بنایا گیا ہے۔


 انہوں نے کہا ہے کہ اس دفعہ پولیو انسداد مہم میں ڈی ایچ او اور سیاسی نمائندوں کی ملی بھگت سے اپنے من پسند افراد اور ملازمین کو پولیو ورکرز لگایا لیاہے ،جس کے باعث کوہلو میں سینکڑوں بچے پولیو کے قطرے پلانے سے محروم ہوئے ہیں۔


 دوسری جانب ہیلتھ ضلعی ناظم بھی ٹرانسفر ہونے کے خوف سے سیاسی لوگوں کے آگے مکمل بےبس و لاچار نظر آتا ہے اس حوالے سے جب مقامی صحافی نے ای پی آئی کے عملہ سے رابطہ کیا  تو انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کے شرط پر اس چیز کی تصدیق کی کہ پولیو مہم میں سیاسی مداخلت کی جا رہی ہے ۔ دن میں کئی دفعہ چار چار لسٹ آتے ہیں کہ ہمارے بندوں کا نام پولیو ورکر میں لگا جائے ، انکار کرنے والوں  سے پولیو مہم کا اختیار چھین کر ڈی ایچ او کے حوالے کیا گیا ہے ۔ ڈی ایچ او ٹرانسفر ہونے کے ڈر سے سیاسی لوگوں کے سامنے بےبس ہے اور پولیو مہم میں بےجا سیاسی مداخلت جاری ہے جس کے باعث محکمہ ای پی آئی کے عملہ آپس میں دست گربیان ہیں۔


 عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر کوہلو اعجاز احمد جعفر و دیگر حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ کوہلو میں انسداد پولیو مہم میں سیاسی مداخلت ختم کرکے علاقے میں صاف و شفاف طریقے سے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں تاکہ ہماری نسلیں زندگی بھر کی معذوری سے بچ جائیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post