شال ریاست خواتین اور بچوں کو بھی لاپتہ کررہی ہے – مظاہرین



 بلوچستان کے مرکزی شہر شال  پریس کلب کے احاطے میں رشید ہ اور رحیم زہری کی جبری گمشدگی کے کیخلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز اور لواحقین کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔


احتجاج میں جبری لاپتہ افراد کے لواحقین، سیاسی جماعتوں، طلباء تنظیوں کے علاوہ سول سوسائٹی سے وابستہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ اس موقع پر مظاہرین نے جبری لاپتہ افراد کی تصویریں اٹھا کر رکھے تھے ۔ 


مظاہرہ سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو لاپتہ کرنا معمول بن گیا ہے۔سیاسی جماعتوں کی لاپتہ افراد معاملے پر خاموشی تشویشناک ہے، بلوچستان میں موجود ہر فرد کو لاپتہ افراد کیلئے آواز اٹھانی چاہیے۔


انہوں نے کہا کہ آج آپ لاپتہ افراد کیلئے نہیں بولیں گے کل آپ بھی اٹھائے جائیں گے ۔اب بلوچستان میں خواتین بھی محفوظ نہیں  ۔


مقررین نے کہا کہ ساحل وسائل کو لوٹنے سمیت ہمارے نوجوانوں کو لاپتہ کیا جارہاہے، پرویز مشرف کے دور سے بلوچستان میں آپریشن جاری ہے اور گزشتہ 20 سال سے نوجوانوں کو لاپتہ کیا جارہاہے۔


 ا نھوں نے کہاہے کہ رشیدہ زہری کو منظر عام پر لائی گئی ہے مگر انکی شوہر  رحیم زہری تاحال لاپتہ ہیں ۔ رحیم زہری نے اگر کوئی جرم کیا ہے تو اس کو عدالتوں میں پیش کیا جائے ۔


وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز، بی ایس او، نیشنل پارٹی، بی این پی ، نیشنل ڈیموکریٹک ، عوامی نیشنل پارٹی، پشتونخواہ، ہزارہ سمیت دیگر پارٹیوں اور طلباء تنظمیوں کے مقررین نے واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ رشیدہ زہری ، رحیم زہری اور خاندان کو تین فروری کو لاپتہ کیا گیا تھا ۔ دو دن بعد کمسن بچوں اور بوڑھی والدہ کو رہا کیا گیا۔ آج دس دن بعد رشیدہ بی بی بھی  رہا ہوگئی ہیں ۔ انھیں  دس دنوں تک کیوں   حبس بے جا میں رکھی گئی تھی۔؟ 


مظاہرین نے وزیر داخلہ ضیا لانگو کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ طاقت ور قوتیں جو انکو کہتے ہیں یہ وہی بولتے ہیں۔


آپ کو علم ہے  کہ رحیم اور رشیدہ زہری کی جبری گمشدگی کے خلاف حب چوکی ، تربت سمیت آج شال  میں مظاہرہ کیاگیا جبکہ سولہ فروری کو خضدار میں احتجاج کیا جائے گا ۔


دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب ٹوئیٹر پر بلوچ، سندھی، پشتون، مہاجر اور دیگر ایکٹوٹس غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے جبری گمشدگیوں کی روک تھام کا مطالبہ کررہے ہیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post