حکومتی ادارے المناک اور سفاکانا واقعات کی ذمہ داری لینے سے انکاری ہیں۔ماما قدیر



کراچی میں بلوچ جبری لاپتہ شہداء کیلئے جاری بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4952 دن ہوگئے .


آج کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنے والوں میں لیاری بہاری کمیونٹی کے سیاسی اور سماجی کارکن محمد یوسف بلوچ اور  عبدالله بلوچ نے اظہار یکجہتی کی۔


 وائس فار بلوچ مسئنگ پرسنز تنظیم  وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے اس موقع پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ  اظہار رائے کی جمہوری آزادی حقوق اور قوموں کی حقوق کی پاسداری وہ دعوے ہیں، جنہیں پاکستانی حکمران داخلی خارجی سطح پر کرتے ہوئے نہیں تھکتے۔


انھوں نے کہاہے کہ  حکمرانوں کی ظرف سے بین الاقوامی سطح پر ہمیشہ دعؤی کیا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے اعلی انسانی جمہوری مہذب اقدار کے نفاذ اور مختلف قوموں کے درمیان مساویانہ حقوق اور باہمی ہم آہنگی کی جنّت بساںٔی ہوئی ہے ، لیکن مالياتی سرماۓ اور مخصوص بالادست مقتدر قوموں کی آمریت جمہوریت کے چڑھاۓ ہوئے نقاب کو وہ  اب تک پوری طرح چھپائے جانے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں ۔ 

 

انھوں نے کہا ہے کہ  اس نقاب کو بلوچستان میں سرکاری قوتوں کی طرف سے سنگین انسانی حقوق کی پامالی جسے بلوچ سماج میں بین الاقوامی سطح پر بدترین جنگی جراںٔم قرار دیا جارہا ہے ، نے تار تار کر دیا ہے ۔


ماما نے کہاہے کہ  مختلف شعبہ ہاۓ زندگی  سے تعلق رکھنے والے بلوچوں کو ماورائے عدالت جبری اغوا جبری گمشدگی خفیہ رياستی عقوبت خانوں میں انہیں سفاکانا ذہنی جسمانی تشدد سے شہید کرنے اور پھر ان کی تشدد زدہ مسخ لاشوں کو ویرانوں میں پھینکنے والے واقعات کا تسلسل سے جاری رہنے والے  واقعات انسانی بحران  کی شکل اختیار کر گیا ہے ، تو دوسری جانب  دنیا کی تمام ریاستی قوانین سمیت بین الاقوامی قانون کے مطابق جنگی جراںٔم تسلیم کیے گئے ہیں۔ 


 انھوں نے کہاہے کہ ان بلوچ کش واقعات پائی جانے والی شدت کا انداز گزشتہ سال لاپتہ بلوچوں کے  ملنے والی تشدد زدہ لاشوں کی بر آمددگی کی تعداد سے لگایا جاسکتا ہے۔  جو وی بی ایم پی تنظیم کے مطابق ہزاروں سے زائد ہے   ۔ اس کے علاوہ ساٹھ ہزار کے قریب بلوچوں کو جبری لاپتہ کیا گیا ہے،  مگر حکومتی ادارے ان المناک اور سفاکانا واقعات کی ذمہ داری لینے سے انکاری ہیں

Post a Comment

Previous Post Next Post