کراچی جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلے لگائے گئے کیمپ کو 4944 دن مکمل



کراچی : بلوچ جبری لاپتہ افراد و شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4944 دن ہوگئے.

 آج کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنے والوں میں پسنی سے سیاسی سماجی کارکنان سلمان علی بلوچ ، سعید سلیمان بلوچ، بلوچ یکجہتی کمیٹی ملیر کے یاسر بلوچ، اور گارڈن کراچی سے میر حمل بلوچ اور دیگر نے کیمپ آ کر اظہار یکجہتی کی .

 وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ لفظ بلوچستان کے ہونٹوں پر آتے ہی جذبات، احساسات ، تصورات ، خیالات ایک جنگی میدان کا منظر لیکر آتی ہیں،  جہاں ہر طرف آگ کے شعلوں میں انسان جلتے ہوئے نظر آتے ہیں ،جہاں بندوق ، بارود توپ  اور گولوں کی گرجدار آواز میں بلوچ ماں بہنوں کی آہیں اور سسکیاں سنائی دیتی ہیں ، لیکن ان آہوں اور سسکیوں میں درد کے ساتھ ساتھ عزم اور پختہ جدوجہد کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے ۔ 

بلوچوں کے بکھرتی ہوئی نعشوں میں ماں کی ممتا، بہن کی آنچل بلوچوں کے جذبات، خواہشات 
،ارمان اور خواب بھی ریزہ ریزہ دکھائی دیتے ہیں ۔ جہاں امن کی علامت فاختہ بھی بلوچوں کے دکھ ، درد میں بارود کی برسات کو دیکھ خون کے آنسوں بہاتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

 ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ بلوچستان میں ایک جنگ چل رہی ہے اور جنگ کی ہی وجہ سے شہداء بلوچ کے لہو نے سرزمین بلوچستان کو سرمئی سے سرخ کر دیا ہے یہ جنگ امن ، خوشحالی ، انسانی برابری اور بلوچ کی تہذیب ، ثقافت اور بقاء کی جنگ ہے۔

انھوں نے کہاہے کہ جنگ زدہ بلوچستان میں میڈیا کو حالات کے بارے میں صحیح رپورٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے اور لوگوں کے خیالات کو اجاگر کرنے پر پابندی ہے ، مگر مخصوص مراعات یافتہ میڈیا صحافیوں کو ریاست کے مرتکب کردہ پالیسی کے مطابق گمراہ کن رپورٹیں شائع کر کے مراعات سے نوازنا روز کا معمول ہے ، بلوچستان میں انسانی ضمیر قلم اور الفاظ کے حرمت ، سکوں کے عوض بیچنے کا کاروبار عروج ہر ہے اور روز کا معمول بن چکا ہے -

Post a Comment

Previous Post Next Post