کیچ ( ویب ڈیسک ، مانیٹرنگ ڈیسک ) کیچ تحصیل مند کے پہاڑی علاقوں شیراز اور چکاپ میں پاکستانی فوجی ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ جاری ہے ۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں ہر وقت غیر اعلانیہ زمینی اور فضائی آپریشن جاری رہتی ہے ۔
مگر آج ہونے والی بربریت کی کڑی گذشتہ روز فورسز پر چکاپ کے مقام پر بلوچ سرمچار وں کے حملہ سے ملتی ہیں ۔ جس میں دو اہلکار شدید زخمی ہوئے تھےاور دو بھاگ گئے تھے ۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ جاری فضائی فوجی آپریشن کی شدت سے یہی اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ فورسز کو گذشتہ دن ہونے والے حملے میں جانی نقصانا کا سامنا کرنا پڑاہے اور یہ عام سپاہی نہیں بلکہ افسر ہوسکتے ہیں ۔
تب ہی بھوکا پیاسا پاکستان لاکھوں روپے کے اخراجات برداشت کرکے ہیلی کاپٹروں پر خرچ کرکے پہاڑوں میں تیر برسا کر وہاں نہتے خانہ بدوشوں اور انکے بچوں کو غضب کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔
آپ کو بھی علم ہے بلوچستان میں جب بھی فوج کو بلوچ سرمچاروں کے ہاتھوں مار پڑتی ہے تو وہ پہلے سے جبری لاپتہ افراد کو جعلی مقابلہ کا نام دیکر قتل کردیتے ہیں یا دوسری صورت میں وہ زمینی فضائی آپریشن کرکے دیہی علاقوں اور پہاڑوں میں رہنے والے عام سولین کو نشانہ بنا دیتی ہیں ۔
جس کی مثال تازہ ہرنائی و زیارت فوجی درندگی ہے جہاں گیارہ نہتے کئی سالوں سے فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ افراد کو گولیوں سے چھلنی کرکے بڑی ڈیٹائی سے قبول کیاگیا کہ مقابلہ میں مارے گئے ہیں
علاقائی لوگوں نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ جب پاکستانی بے لغام فوج ایک خفیہ ایجنسی کے کرنل کی ھلاکت پر گیارہ نہتے بلوچوں کو ھلاک کر سکتے ہیں تو اس کے مقابلے میں حالیہ دنوں،فوجی کور کمانڈر ،ڈی جی کوسٹ گارڈ سمیت چھ افسران ہیلی کاپٹر میں بلوچ سر مچاروں کے ہاتھوں مارے گئے ہیں ،
ان کا بدلہ جاری پنجگور کیلکور اور مند شیراز وچکاپ میں ہونے والے فوجی آپریشنوں میں کس طرح لیں گے ، کسی کو شاید اندازہ بھی نہیں ہے ۔
